یہ بزمِ مے پرستی، حسرتِ تکلیف بے جا ہے

یہ بزمِ مے پرستی، حسرتِ تکلیف بے جا ہے۱

کہ جامِ بادہ کف بر لب بتقریبِ تقاضا ہے

مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے

جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے

خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہو

وہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے

وفائے دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدم

اثر فریادِ دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے

نہ لائی شوخئ اندیشہ تابِ رنجِ نومیدی

کفِ افسوس ملنا عہدِ تجدیدِ تمنّا ہے

  1. ۱ متداول دیوان میں نہیں؛ دوسرے نسخوں (حمیدیہ، بھوپال، شیرانی، گلِ رعنا) سے

ماخذ: نسخۂ اردو ویب · مرزا غالب