نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا
نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا
تھا سپندِبزمِ وصلِ غیر ، گو بیتاب تھا
دیکھتے تھے ہم بچشمِ خود وہ طوفانِ بلا۱
آسمانِ سفلہ جس میں یک کفِ سیلاب تھا
موج سے پیدا ہوئے پیراہنِ دریا میں خار۱
گریہ وحشت بے قرارِ جلوۂ مہتاب تھا
جوشِ تکلیفِ تماشا محشرستانِ نگاہ۱
فتنۂ خوابیدہ کو آئینہ مشتِ آب تھا
بے دلی ہائے اسدؔ افسردگی آہنگ تر۱
یادِ ایّامے کہ ذوقِ صحبتِ احباب تھا
مَقدمِ سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے !
خانۂ عاشق مگر سازِ صدائے آب تھا
نازشِ ایّامِ خاکستر نشینی ، کیا کہوں
پہلوئے اندیشہ ، وقفِ بسترِ سنجاب تھا
کچھ نہ کی اپنے جُنونِ نارسا نے ، ورنہ یاں
ذرّہ ذرّہ روکشِ خُرشیدِ عالم تاب تھا
آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے ؟
کل تلک تیرا بھی دل مہرووفا کا باب تھا
یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
انتظارِ صید میں اِک دیدۂ بیخواب تھا
میں نے روکا رات غالبؔ کو ، وگرنہ دیکھتے
اُس کے سیلِ گریہ میں ، گردُوں کفِ سیلاب تھا
- ۱ متداول دیوان میں نہیں؛ دوسرے نسخوں (حمیدیہ، بھوپال، شیرانی، گلِ رعنا) سے