گر جفا کی نہ ہو وفا مانع

ردیف: مانع

گر جفا کی نہ ہو وفا مانع

کوئی ظالم نہیں ترا مانع

چارہ گر کے الٰہی ٹوٹیں ہاتھ

ہو گئی درد کی دوا مانع

سامنے تیرے دم نہ نکلا ہائے

حسرتوں کی ہوئی قضا مانع

کیوں نہ الٹی نقاب چہرے سے

حشر کی کیوں ہوئی حیا مانع

کیوں نہ پھیری چھری رکا کیوں ہاتھ

تیرا جلاد کون تھا مانع

چھوڑ کر پردہ ہٹ گیا وہ شوخ

نالہ دیدار کا ہوا مانع

آسمانؔ اس قمر کے آنے کا

ہوا اظہار مدعا مانع

ماخذ: ویکی ماخذ · مرزا آسمان جاہ انجم