دیوان انجم (۱۹۰۵)
ردیف الف
- انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتا
- رنگ بدلا ہے کئی دن سے مزاج یار کا
- سارے عالم میں نور ہے تیرا
- ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھا
ردیف ب
ردیف پ
ردیف چ
ردیف ڈ
ردیف ر
ردیف ص
ردیف ض
ردیف ط
ردیف ظ
ردیف ع
ردیف ف
ردیف گ
ردیف ل
ردیف ن
- جوش پر اپنی مستیاں آئیں
- آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں
- سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میں
- لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیں
- پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میں
- صاف ہم تم سے آج کتنے ہیں
- خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیں
- وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیں
ردیف و
ردیف ی
- باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہی
- یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھی
- غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہی
- نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھی
- مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگی
- نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہے
- ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہے
- بطرز دلبری بیداد کیجے
- اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتے
- عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والے
- یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہے
- دکھاتا ہے مرا دل بے الف رے
- صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہے
- چل بسے جو کہ تھے جانے والے
- امید مہر پر اک حسرت دل ہم بھی رکھتے تھے
- بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہے
- دل لے کے ہمارا پھرتا ہے یہ کون وطیرہ تیرا ہے
- مثال چرخ رہا آسماںؔ سر گرداں