دیوان انجم (۱۹۰۵)

ردیف الف

  1. انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتا
  2. رنگ بدلا ہے کئی دن سے مزاج یار کا
  3. سارے عالم میں نور ہے تیرا
  4. ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھا

ردیف ب

  1. کیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سبب

ردیف پ

  1. ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپ

ردیف چ

  1. انجمؔ اگر نہیں در دل دار تک پہنچ

ردیف ڈ

  1. گر انہیں ہے اپنی صورت پر گھمنڈ

ردیف ر

  1. شبیہ خنجر قاتل بنا کر
  2. کبھی انجمؔ اسے ہشیار تو کر

ردیف ص

  1. پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیص

ردیف ض

  1. یاں کفر سے غرض ہے نہ اسلام سے غرض
  2. چلے آؤ اگر دم بھر کو تم تو یہ جاتا رہے فی الفور مرض

ردیف ط

  1. کبھی لکھتا ہوں میں ان کو اگر خط

ردیف ظ

  1. دم رخصت جو ان سے کہہ کے میں اٹھا خدا حافظ

ردیف ع

  1. گر جفا کی نہ ہو وفا مانع

ردیف ف

  1. نہ تھا دل ہمارا کبھی غم سے واقف

ردیف گ

  1. میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگ

ردیف ل

  1. الٰہی کوئی ہوا کا جھونکا دکھا دے چہرہ اڑا کے آنچل

ردیف ن

  1. جوش پر اپنی مستیاں آئیں
  2. آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں
  3. سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میں
  4. لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیں
  5. پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میں
  6. صاف ہم تم سے آج کتنے ہیں
  7. خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیں
  8. وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیں

ردیف و

  1. دل لے کے برائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنو
  2. لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو

ردیف ی

  1. باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہی
  2. یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھی
  3. غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہی
  4. نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھی
  5. مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگی
  6. نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہے
  7. ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہے
  8. بطرز دلبری بیداد کیجے
  9. اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتے
  10. عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والے
  11. یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہے
  12. دکھاتا ہے مرا دل بے الف رے
  13. صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہے
  14. چل بسے جو کہ تھے جانے والے
  15. امید مہر پر اک حسرت دل ہم بھی رکھتے تھے
  16. بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہے
  17. دل لے کے ہمارا پھرتا ہے یہ کون وطیرہ تیرا ہے
  18. مثال چرخ رہا آسماںؔ سر گرداں