جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں

ردیف: دیکھتے ہیں

جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں

تمہیں تم کو ہم اے صنم دیکھتے ہیں

یہ سب آپ ہی کی ہے گفت و شنید

جو گوش و زبان و قلم دیکھتے ہیں

اور آپی کا ہے سب یہ جلوہ میاں

جو پیش نظر دم بدم دیکھتے ہیں

جو ہیں محو دیدار ہم اس قدر

یہ آپی کا لطف و کرم دیکھتے ہیں

پیا جب سے جام شراب طہورا

تبھی سے تو دم ہیں عدم دیکھتے ہیں

تن و جان و دل جملہ حرکات میں

شہہ قل ہو اللہ کو ہم دیکھتے ہیں

تمہیں ہو صفیؔ شاہ مرداں کی دید

نہ ہم بیش دیکھیں نہ کم دیکھتے ہیں

ماخذ: ویکی ماخذ · مردان صفی