دیوان مردان صفی (۱۹۱۴)

ردیف الف

  1. اے رشک قمر آگے ترے شمس و قمر کیا
  2. دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا

ردیف ب

  1. نہ گل سے کام ہے ہم کو نہ کچھ گلزار سے مطلب

ردیف م

  1. میرے مرشد ہو پیشوا ہو تم

ردیف ن

  1. جو یہ جسم سر تا قدم دیکھتے ہیں
  2. تو ہی ہے مری یہ بود و بقا تو اور نہیں میں اور نہیں

ردیف ہ

  1. مری صورت میں مرا یار ہے اللہ اللہ

ردیف ی

  1. آنکھوں میں مری پھرتی ہے تصویر کسی کی
  2. لاکھ دیکھوں تجھے پھرتی نہیں نیت میری
  3. جشن تجھ کو مرے نو شاہ مبارک ہوئے
  4. کام اتنا میرے پیارے چرخ کہن سے نکلے