غزل

ردیف الف

  1. شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا
  2. سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپنا
  3. ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا
  4. رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا
  5. پرتو ساغر صہبا کیا تھا
  6. نہیں یہ فکر کوئی رہبر کامل نہیں ملتا
  7. حسن کو بے حجاب ہونا تھا
  8. بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا
  9. عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھا

ردیف ر

  1. یونہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کر

ردیف گ

  1. عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگ

ردیف ل

  1. نہ ہم آہنگ مسیحا نہ حریف جبریل

ردیف م

  1. اذن خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم

ردیف ن

  1. وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیں
  2. سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں
  3. رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں
  4. مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں
  5. کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوں
  6. کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں
  7. دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیں
  8. آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیں

ردیف ہ

  1. برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ

ردیف ی

  1. یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتی
  2. یہ میری دنیا یہ میری ہستی
  3. یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی
  4. خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی
  5. درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی
  6. دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھی
  7. تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے
  8. سارا عالم گوش بر آواز ہے
  9. نگاہ لطف مت اٹھ خوگر آلام رہنے دے
  10. کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے
  11. خامشی کا تو نام ہوتا ہے
  12. جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
  13. جگر اور دل کو بچانا بھی ہے
  14. حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے
  15. دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیں
  16. آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے
  17. عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے