غزل
ردیف الف
- شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا
- سازگار ہے ہم دم ان دنوں جہاں اپنا
- ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا
- رخصت اے ہم سفرو شہر نگار آ ہی گیا
- پرتو ساغر صہبا کیا تھا
- نہیں یہ فکر کوئی رہبر کامل نہیں ملتا
- حسن کو بے حجاب ہونا تھا
- بس اس تقصیر پر اپنے مقدر میں ہے مر جانا
- عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھا
ردیف ر
ردیف گ
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- وہ نقاب آپ سے اٹھ جائے تو کچھ دور نہیں
- سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں
- رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں
- مری وفا کا ترا لطف بھی جواب نہیں
- کرشمہ سازئ دل دیکھتا ہوں
- کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں
- دھواں سا اک سمت اٹھ رہا ہے شرارے اڑ اڑ کے آ رہے ہیں
- آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیں
ردیف ہ
ردیف ی
- یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتی
- یہ میری دنیا یہ میری ہستی
- یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی
- خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی
- درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی
- دامن دل پہ نہیں بارش الہام ابھی
- تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے
- سارا عالم گوش بر آواز ہے
- نگاہ لطف مت اٹھ خوگر آلام رہنے دے
- کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے
- خامشی کا تو نام ہوتا ہے
- جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
- جگر اور دل کو بچانا بھی ہے
- حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئے
- دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیں
- آسماں تک جو نالہ پہنچا ہے
- عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے