فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئی

ردیف: ہو گئی

فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئی

پھر وہی اپنی طبیعت ہو گئی

کیا بتاؤں کس طرح دل آ گیا

کیا کہوں کیوں کر محبت ہو گئی

دیکھیے پختہ مزاجی یار کی

ہو گئی جس پر عنایت ہو گئی

انتہائے نا امیدی دیکھیے

جو تمنا تھی وہ حسرت ہو گئی

ماخذ: ویکی ماخذ · لالہ مادھو رام جوہر