غزل
ردیف الف
- کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا
- تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا
- فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارا
- بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا
- روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیا
- کنج قفس سے پہلے گھر اپنا کہاں نہ تھا
- یار نے اس دل ناچیز کو بہتر جانا
ردیف ن
- رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں
- پئے گل گشت سنا ہے کہ وہ آج آتے ہیں
- بارہ مہینے ہجر کے گزرے ملال میں
- کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئی
- ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں
- یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں
- حرم میں مدتوں ڈھونڈا شوالوں میں پھرا برسوں
- کسی کو لاکھ الم ہو ذرا ملال نہیں
- بوئے گل سونگھ کر بگڑتے ہیں
ردیف و
- ہم نہ چھوڑیں گے محبت تری اے زلف سیاہ
- آؤ بیٹھو ہنسو مزا ہو
- گل زار میں جو دور گل لالہ رنگ ہو
- شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو
- تا دشت عدم آہ رسا لے گئی مجھ کو
ردیف ی
- آ گیا دل جو کہیں اور ہی صورت ہوگی
- حسن پر زیبا نہیں یہ لن ترانی آپ کی
- نوبت گریہ و بے تابی و زاری آئی
- بلبل تو بہت ہیں گل رعنا نہیں کوئی
- ہوتے خدا کے اس بت کافر کی چاہ کی
- فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئی
- کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والے
- دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے
- دیں جسے چاہیں دل ہمارا ہے
- برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئے
- دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے
- تیرے کوچے کی ہوا لگ گئی شاید اس کو
- تیرے گھر خواب میں گیا تھا غیر
- تھے نوالے موتیوں کے جن کے کھانے کے لیے
- کہا مانو محبت میں ضرر ہے
- اس کا مزاج پوچھو جو ہر وقت پاس ہے
- دل مرا خواب گاہ دلبر ہے
- دل کو کوسو جو چاہتا ہے