غزل

ردیف الف

  1. کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا
  2. تھوڑا ہے جس قدر میں پڑھوں خط حبیب کا
  3. فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارا
  4. بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا
  5. روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیا
  6. کنج قفس سے پہلے گھر اپنا کہاں نہ تھا
  7. یار نے اس دل ناچیز کو بہتر جانا

ردیف ن

  1. رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں
  2. پئے گل گشت سنا ہے کہ وہ آج آتے ہیں
  3. بارہ مہینے ہجر کے گزرے ملال میں
  4. کیسا ہی دوست ہو نہ کہے راز دل کوئی
  5. ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں
  6. یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں
  7. حرم میں مدتوں ڈھونڈا شوالوں میں پھرا برسوں
  8. کسی کو لاکھ الم ہو ذرا ملال نہیں
  9. بوئے گل سونگھ کر بگڑتے ہیں

ردیف و

  1. ہم نہ چھوڑیں گے محبت تری اے زلف سیاہ
  2. آؤ بیٹھو ہنسو مزا ہو
  3. گل زار میں جو دور گل لالہ رنگ ہو
  4. شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو
  5. تا دشت عدم آہ رسا لے گئی مجھ کو

ردیف ی

  1. آ گیا دل جو کہیں اور ہی صورت ہوگی
  2. حسن پر زیبا نہیں یہ لن ترانی آپ کی
  3. نوبت گریہ و بے تابی و زاری آئی
  4. بلبل تو بہت ہیں گل رعنا نہیں کوئی
  5. ہوتے خدا کے اس بت کافر کی چاہ کی
  6. فصل گل آتے ہی وحشت ہو گئی
  7. کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والے
  8. دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے
  9. دیں جسے چاہیں دل ہمارا ہے
  10. برسات کا مزا ترے گیسو دکھا گئے
  11. دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے
  12. تیرے کوچے کی ہوا لگ گئی شاید اس کو
  13. تیرے گھر خواب میں گیا تھا غیر
  14. تھے نوالے موتیوں کے جن کے کھانے کے لیے
  15. کہا مانو محبت میں ضرر ہے
  16. اس کا مزاج پوچھو جو ہر وقت پاس ہے
  17. دل مرا خواب گاہ دلبر ہے
  18. دل کو کوسو جو چاہتا ہے