غزل

ردیف الف

  1. وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ
  2. بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا
  3. دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا
  4. حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا

ردیف د

  1. وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد

ردیف م

  1. ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم

ردیف ن

  1. اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
  2. حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں
  3. مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں

ردیف و

  1. عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلو

ردیف ی

  1. صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی
  2. غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی
  3. اشکوں میں حسن دوست دکھاتی ہے چاندنی
  4. حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے
  5. تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
  6. تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
  7. تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے
  8. ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے
  9. جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے
  10. دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے
  11. طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے