غزل
ردیف الف
- وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ
- بقدر جوش جنوں تار تار بھی نہ کیا
- دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا
- حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا
ردیف د
ردیف م
ردیف ن
ردیف و
ردیف ی
- صراحی کا بھرم کھلتا نہ میری تشنگی ہوتی
- غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی
- اشکوں میں حسن دوست دکھاتی ہے چاندنی
- حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے
- تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
- تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
- تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے
- ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے
- جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے
- دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے
- طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے