مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہے

ردیف: نہیں ہے

مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہے

پر اتنا بھی تو ناکارا نہیں ہے

ہیں اکثر خوب رو اوباش لیکن

کوئی تجھ سا تو آوارا نہیں ہے

جو دل لے کر ہوئے منکر تم اس طرح

میاں ہم نے بھی کچھ ہارا نہیں ہے

ہزاروں آرزو دل میں گرہ ہے

پہ کہنے کا ہمیں یارا نہیں ہے

نہ مرنے دیتے ہیں قائمؔ کو لیکن

خداوندی سے کچھ چارہ نہیں ہے

ماخذ: ویکی ماخذ · قائم چاندپوری