غزل

ردیف الف

  1. شب جو دل بیقرار تھا کیا تھا
  2. اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کا
  3. دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا
  4. پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہا
  5. دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھا
  6. میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گا
  7. دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گا
  8. میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا
  9. جی تلک آتش ہجراں میں سنبھالا نہ گیا
  10. نہیں بند قبا میں تن ہمارا
  11. اک ڈھب پہ کبھو وہ بت خودکام نہ پایا
  12. محتسب سے صلاح کیجئے گا
  13. ہم ہیں جنہوں نے نام چمن بو نہیں کیا
  14. کیا میں کیا اعتبار میرا
  15. چھوڑ ماوائے ذقن زلف پریشاں میں پھنسا
  16. پھر کے جو وہ شوخ نظر کر گیا

ردیف ت

  1. چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبت
  2. تا چند سخن سازئ نیرنگ خرابات
  3. ہو گر ایسے ہی مری شکل سے بیزار بہت

ردیف ث

  1. نہ پوچھ گریۂ خوں کا ترے ہے کیا باعث

ردیف ج

  1. مانگے ہے ترے ملنے کو بے طرح سے دل آج

ردیف خ

  1. یوں تو دنیا میں ہر اک کام کے استاد ہیں شیخ

ردیف د

  1. اب تو نے گل نہ گلستاں ہے یاد

ردیف ر

  1. واقف نہیں ہم کہ کیا ہے بہتر
  2. بے شغل نہ زندگی بسر کر
  3. دل میں اپنے نہیں کوئی جز یار

ردیف س

  1. گو یاں نہ کسی کو آئے افسوس

ردیف ش

  1. دیکھا ہے آج راہ میں ہم اک حریر پوش

ردیف ط

  1. اس کو نہ رات کہہ تو نہ اس کو بتا غلط

ردیف ع

  1. آتش تب نے کی ہے تاب شروع
  2. گو بہ نام اک زبان رکھتی ہے شمع

ردیف ف

  1. دیکھا کبھو نہ اس دل ناشاد کی طرف
  2. کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرف
  3. آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسف
  4. پاس اخلاص سخت ہے تکلیف

ردیف ل

  1. ہے بے اثر ایسی ہی جو اپنی کشش دل

ردیف م

  1. اب کے جو یہاں سے جائیں گے ہم

ردیف ن

  1. نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میں
  2. آپ جو کچھ قرار کرتے ہیں
  3. لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میں
  4. کل اے آشوب نالہ آج نہیں
  5. صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میں
  6. لے چکو دل جو نگہ کو تو یہ دشوار نہیں
  7. معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیں
  8. ترک وفا گرچہ صداقت نہیں
  9. ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیں
  10. نگاہوں سے نگاہیں سامنے ہوتے ہی جب لڑیاں
  11. نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیں
  12. ایک جاگہ پہ نہیں ہے مجھے آرام کہیں
  13. جوں شمع دم صبح میں یاں سے سفری ہوں
  14. جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میں
  15. پھوٹی بھلی وہ آنکھ جو آنسو سے تر نہیں
  16. واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیں
  17. آوے خزاں چمن کی طرف گر میں رو کروں
  18. جس کو ہستی و عدم جانتے ہیں
  19. شب کس سے یہ ہم جدا رہے ہیں
  20. درد پی لیتے ہیں اور داغ پچا جاتے ہیں
  21. کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیں
  22. جہاں کو وہ لب مے گوں خراب رکھتے ہیں
  23. کون سا دن کہ مجھے اس سے ملاقات نہیں
  24. نہ کہہ کہ بے اثر انفاس سرد ہوتے ہیں
  25. عبث ہیں ناصحا ہم سے ز خود رفتوں کی تدبیریں
  26. جوں عبرت کور جلوہ گر ہوں
  27. جو کوئی در پہ ترے بیٹھے ہیں

ردیف و

  1. آگے کچھ اس کے ذکر دل زار مت کرو
  2. ہم موئے پھرتے ہیں اور خواہش جاں ہے اس کو
  3. ناصحا کر نہ اسے سی کے پشیماں مجھ کو
  4. ٹک تو خاموش رکھو منہ میں زباں سنتے ہو
  5. کبھو دکھا کے کمر اور کبھو دہاں مجھ کو
  6. شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کو
  7. رہنے دے شب اپنے پاس مجھ کو

ردیف ہ

  1. جاتے ہی ہو گر خواہ نخواہ

ردیف ھ

  1. جی میں چہلیں تھیں جو کچھ سو تو گئیں یار کے ساتھ

ردیف ی

  1. تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئی
  2. یوں ہی رنجش ہو اور گلا بھی یوں ہی
  3. خط کے آتے ہی وہ مکھڑے کی صفائی کیا ہوئی
  4. قاصد کو دے نہ اے دل اس گل بدن کی پاتی
  5. گہ پیر شیخ گاہ مرید مغاں رہے
  6. نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہے
  7. دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہے
  8. یاں سدا نیش بلا وقف جگر ریشی ہے
  9. مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہے
  10. آؤ کچھ شغل کریں بیٹھے ہیں عریاں اتنے
  11. ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہے
  12. قتل پہ تیرے مجھے کد چاہئے
  13. زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نے
  14. آج جی میں ہے کہ کھل کر مے پرستی کیجئے