غزل
ردیف الف
- شب جو دل بیقرار تھا کیا تھا
- اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کا
- دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا
- پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہا
- دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھا
- میں نہ وہ ہوں کہ تنک غصہ میں ٹل جاؤں گا
- دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گا
- میں خوب اہل جہاں دیکھے اور جہاں دیکھا
- جی تلک آتش ہجراں میں سنبھالا نہ گیا
- نہیں بند قبا میں تن ہمارا
- اک ڈھب پہ کبھو وہ بت خودکام نہ پایا
- محتسب سے صلاح کیجئے گا
- ہم ہیں جنہوں نے نام چمن بو نہیں کیا
- کیا میں کیا اعتبار میرا
- چھوڑ ماوائے ذقن زلف پریشاں میں پھنسا
- پھر کے جو وہ شوخ نظر کر گیا
ردیف ت
ردیف ث
ردیف ج
ردیف خ
ردیف د
ردیف ر
ردیف س
ردیف ش
ردیف ط
ردیف ع
ردیف ف
- دیکھا کبھو نہ اس دل ناشاد کی طرف
- کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرف
- آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسف
- پاس اخلاص سخت ہے تکلیف
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- نہ دل بھرا ہے نہ اب نم رہا ہے آنکھوں میں
- آپ جو کچھ قرار کرتے ہیں
- لائق وفا کے خلق و سزائے جفا ہوں میں
- کل اے آشوب نالہ آج نہیں
- صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میں
- لے چکو دل جو نگہ کو تو یہ دشوار نہیں
- معلوم کچھ ہوا ہی نہ دل کا اثر کہیں
- ترک وفا گرچہ صداقت نہیں
- ہر اک صورت میں تجھ کو جانتے ہیں
- نگاہوں سے نگاہیں سامنے ہوتے ہی جب لڑیاں
- نہ بیم غم ہے نے شادی کی ہم امید کرتے ہیں
- ایک جاگہ پہ نہیں ہے مجھے آرام کہیں
- جوں شمع دم صبح میں یاں سے سفری ہوں
- جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میں
- پھوٹی بھلی وہ آنکھ جو آنسو سے تر نہیں
- واشد کی دل کے اور کوئی راہ ہی نہیں
- آوے خزاں چمن کی طرف گر میں رو کروں
- جس کو ہستی و عدم جانتے ہیں
- شب کس سے یہ ہم جدا رہے ہیں
- درد پی لیتے ہیں اور داغ پچا جاتے ہیں
- کدھر ابرو کی اس کے دھاک نہیں
- جہاں کو وہ لب مے گوں خراب رکھتے ہیں
- کون سا دن کہ مجھے اس سے ملاقات نہیں
- نہ کہہ کہ بے اثر انفاس سرد ہوتے ہیں
- عبث ہیں ناصحا ہم سے ز خود رفتوں کی تدبیریں
- جوں عبرت کور جلوہ گر ہوں
- جو کوئی در پہ ترے بیٹھے ہیں
ردیف و
- آگے کچھ اس کے ذکر دل زار مت کرو
- ہم موئے پھرتے ہیں اور خواہش جاں ہے اس کو
- ناصحا کر نہ اسے سی کے پشیماں مجھ کو
- ٹک تو خاموش رکھو منہ میں زباں سنتے ہو
- کبھو دکھا کے کمر اور کبھو دہاں مجھ کو
- شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کو
- رہنے دے شب اپنے پاس مجھ کو
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئی
- یوں ہی رنجش ہو اور گلا بھی یوں ہی
- خط کے آتے ہی وہ مکھڑے کی صفائی کیا ہوئی
- قاصد کو دے نہ اے دل اس گل بدن کی پاتی
- گہ پیر شیخ گاہ مرید مغاں رہے
- نہ پوچھو کہ قائمؔ کا کیا حال ہے
- دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہے
- یاں سدا نیش بلا وقف جگر ریشی ہے
- مرا جی گو تجھے پیارا نہیں ہے
- آؤ کچھ شغل کریں بیٹھے ہیں عریاں اتنے
- ہر چند دکھ دہی سے زمانے کو عشق ہے
- قتل پہ تیرے مجھے کد چاہئے
- زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نے
- آج جی میں ہے کہ کھل کر مے پرستی کیجئے