غزل

ردیف ر

  1. مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر

ردیف و

  1. کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو

ردیف ی

  1. پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہی
  2. کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی
  3. کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی
  4. کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے
  5. اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرے