بلبلا پھوٹے پہ ہو جاتا ہے آب

غیر مردف

بلبلا پھوٹے پہ ہو جاتا ہے آب

جان و جاناں میں ہے یہ ہستی حجاب

کیا جھلکتے ہیں در دنداں ترے

ایسی موتی میں کہاں ہے آب و تاب

ہے گا نورانی رخ روشن ترا

رات کو مہتاب دن کو آفتاب

بے طرح اس گھر بسے کی یاد میں

اب تڑپتا ہے دل خانہ خراب

شاد آنکھوں سے کیا ہے دیکھ عشقؔ

ابروئے جاناں کی بیت انتخاب

ماخذ: ویکی ماخذ · عشق اورنگ آبادی