غزل
ردیف الف
ردیف ب
ردیف ع
ردیف گ
ردیف م
- خاطر سے غبار دھو گئے ہم
- عشق سے کی یہ دل خالی نے بھر جانے میں دھوم
- حیراں ہیں دیکھ تیری صورت کو یاں تلک ہم
ردیف ن
- یہ نخل تاک نیں میکش ترے جب مست ہوتے ہیں
- رشتۂ دم سے جان ہے تن میں
- خیال گل بدن آ کر بسا ہو جس کے پہلو میں
- باغ جہاں میں سرو سا گردن کشیدہ ہوں
- عاشق ہوئے ہیں جب سے ہم خود سے جا رہے ہیں
ردیف و
ردیف ہ
ردیف ی
- شمع کے تیرے کرشمے نے دل افروزی کی
- دو پیالوں میں ابھی سرشار ہو جاتا ہوں آ ساقی
- بیتی ہے یہ سب دل پہ ہے سب دل کی زبانی
- زلف دلبر لے گئی دل گھات سے
- ترک خواہش زر کر کیمیا گری یہ ہے
- صورت کا اپنی یار پرستار تھا سو ہے
- صفحے پہ کب چمن کے ہوا سے غبار ہے
- رونے میں ابر تر کی طرح چشم کو میرے جوش ہے
- رکھتا ہوں طلائی رنگ اور اشک بھی موتی ہے
- پاس آداب ترے حسن کا کرتے کرتے
- نہ آئینہ ہی اس صورت کے آگے ہکا بکا ہے
- میرے گل کا جو کوئی لطف و کرم دیکھا ہے
- کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سے
- خدا مرے دل پر خوں کو داغدار کرے
- گزارش کر صبا خدمت میں تو اس لاابالی کے
- گرفتاری کی لذت اور نرا آزاد کیا جانے
- بلبل کہو گل کی کیا خبر ہے
- بلا سے خلق ہو بے درد عشق کیا غم ہے
- اے مصور یاد کی تصویر کھینچا چاہئے
- اگر ثابت قدم ہو عشق میں جیوں شمع جل سکیے
- اگر گل میں پیارے تری بو نہ ہووے
- آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے