غزل

ردیف الف

  1. سبب کیا پوچھتے ہو عشق کی آشفتہ حالی کا
  2. عشق کی آگ میں اب شمع سا جل جاؤں گا

ردیف ب

  1. خورشید رو کی صحبت جو اب نہیں تو پھر کب
  2. بلبلا پھوٹے پہ ہو جاتا ہے آب

ردیف ع

  1. سوز دل ہر شب ہمیں اپنا ہی بتلاتی ہے شمع

ردیف گ

  1. لگ رہی جس طرح لالہ کے سارے بن کو آگ

ردیف م

  1. خاطر سے غبار دھو گئے ہم
  2. عشق سے کی یہ دل خالی نے بھر جانے میں دھوم
  3. حیراں ہیں دیکھ تیری صورت کو یاں تلک ہم

ردیف ن

  1. یہ نخل تاک نیں میکش ترے جب مست ہوتے ہیں
  2. رشتۂ دم سے جان ہے تن میں
  3. خیال گل بدن آ کر بسا ہو جس کے پہلو میں
  4. باغ جہاں میں سرو سا گردن کشیدہ ہوں
  5. عاشق ہوئے ہیں جب سے ہم خود سے جا رہے ہیں

ردیف و

  1. خورشید رو کے مہر کی جس پر نگاہ ہو
  2. غم مرا دشمن جانی ہے کہو یا نہ کہو

ردیف ہ

  1. زاہد نہیں مسجد سے کم حرمت مے خانہ

ردیف ی

  1. شمع کے تیرے کرشمے نے دل افروزی کی
  2. دو پیالوں میں ابھی سرشار ہو جاتا ہوں آ ساقی
  3. بیتی ہے یہ سب دل پہ ہے سب دل کی زبانی
  4. زلف دلبر لے گئی دل گھات سے
  5. ترک خواہش زر کر کیمیا گری یہ ہے
  6. صورت کا اپنی یار پرستار تھا سو ہے
  7. صفحے پہ کب چمن کے ہوا سے غبار ہے
  8. رونے میں ابر تر کی طرح چشم کو میرے جوش ہے
  9. رکھتا ہوں طلائی رنگ اور اشک بھی موتی ہے
  10. پاس آداب ترے حسن کا کرتے کرتے
  11. نہ آئینہ ہی اس صورت کے آگے ہکا بکا ہے
  12. میرے گل کا جو کوئی لطف و کرم دیکھا ہے
  13. کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سے
  14. خدا مرے دل پر خوں کو داغدار کرے
  15. گزارش کر صبا خدمت میں تو اس لاابالی کے
  16. گرفتاری کی لذت اور نرا آزاد کیا جانے
  17. بلبل کہو گل کی کیا خبر ہے
  18. بلا سے خلق ہو بے درد عشق کیا غم ہے
  19. اے مصور یاد کی تصویر کھینچا چاہئے
  20. اگر ثابت قدم ہو عشق میں جیوں شمع جل سکیے
  21. اگر گل میں پیارے تری بو نہ ہووے
  22. آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے