غزل

ردیف الف

  1. نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گا
  2. وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانا
  3. ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیا
  4. ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتا
  5. جلوہ فرما دیر تک دل بر رہا

ردیف ن

  1. پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں
  2. نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیں
  3. وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوں

ردیف ی

  1. ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
  2. دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہے