غزل
ردیف الف
- سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا
- رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا
- رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا
- رہتا تو ہے اس بزم میں چرچا مرے دل کا
- نصیحت گرو دل لگایا تو ہوتا
- کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا
- ہاتھ سے ہیہات کیا جاتا رہا
- حسینوں میں رتبہ دوبالا ہے تیرا
- گل افشانی کے دم بھرتی ہے چشم خوں فشاں کیا کیا
- غوغائے پند گو نہ رہا نوحہ گر رہا
- دل گیا دل کا نشاں باقی رہا
- بزم دشمن میں جا کے دیکھ لیا
- ابھی سے آ گئیں نام خدا ہیں شوخیاں کیا کیا
ردیف پ
ردیف ر
ردیف ض
ردیف غ
ردیف ف
ردیف ق
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- وہ کس پیار سے کوسنے دے رہے ہیں
- تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں
- تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوں
- پھٹا پڑتا ہے جوبن اور جوش نوجوانی ہے
- پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں
- نو گرفتار قفس ہوں مجھے کچھ یاد نہیں
- مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہے
- ہم نشیں ان کے طرف دار بنے بیٹھے ہیں
- دل کو دارالسرور کہتے ہیں
- دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوں
ردیف و
- وہ کسی سے تم کو جو ربط تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
- وہ جھوٹا عشق ہے جس میں فغاں ہو
- جہاں میں کون کہہ سکتا ہے تم کو بے وفا تم ہو
ردیف ی
- کیوں کسی سے وفا کرے کوئی (ظہیر دہلوی)
- اے مہرباں ہے گر یہی صورت نباہ کی
- یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھے ہیں
- وہ نیرنگ الفت کو کیا جانتا ہے
- وہ جو کچھ کچھ نگہ ملانے لگے
- واں طبیعت دم تقریر بگڑ جاتی ہے
- ان کو حال دل پر سوز سنا کر اٹھے
- ساقیا مر کے اٹھیں گے ترے مے خانے سے
- رنج راحت اثر نہ ہو جائے
- کچھ نہ کچھ رنج وہ دے جاتے ہیں آتے جاتے
- ہائے کافر ترے ہم راہ عدو آتا ہے
- بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے
- ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گے