غزل
ردیف الف
- زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیا
- زلف چھٹتی ترے رخ پر تو دل اپنا پھرتا
- یارو نہیں اتنا مجھے قاتل نے ستایا
- اس کاکل پر خم کا خلل جائے تو اچھا
- ادھر ابر لے چشم نم کو چلا
- تو ضد سے شب وصل نہ آیا تو ہوا کیا
- ترے ہے زلف و رخ کی دید صبح و شام عاشق کا
- ترے دانت سارے سفید ہیں پئے زیب پان سے مل کر آ
- ٹانکوں سے زخم پہلو لگتا ہے کنکھجورا
- صبح گلشن میں ہو گر وہ گل خنداں پیدا
- سرزمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا
- رنگ میلا نہ ہوا جامۂ عریانی کا
- نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا
- میں نے بٹھلا کے جو پاس اس کو کھلایا بیڑا
- میں ضعف سے جوں نقش قدم اٹھ نہیں سکتا
- لیا نہ ہاتھ سے جس نے سلام عاشق کا
- خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھا
- خال رخ اس نے دکھایا نہ دوبارا اپنا
- کر کے آزاد ہر اک شہپر بلبل کترا
- جو رقیبوں نے کہا تو وہی بد ظن سمجھا
- جسم اس کے غم میں زرد از ناتوانی ہو گیا
- جب تلک چرب نہ جوں شمع زباں کیجئے گا
- اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیا
- ہاتھوں کو اٹھا جان سے آخر کو رہوں گا
- ہار بنا ان پارۂ دل کا مانگ نہ گجرا پھولوں کا
- دل میں ہے کیا جانئے کس کا خیال نقش پا
- دل کو کس صورت سے کیجے چشم دلبر سے جدا
- دل جلوہ گاہ صورت جانانہ ہو گیا
- دل عشق خوش قداں میں جو خواہان نالہ تھا
- دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیا
- چھوڑا نہ تجھے نے رام کیا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا
- بے سبب ہاتھ کٹاری کو لگانا کیا تھا
- بے مہر و وفا ہے وہ دل آرام ہمارا
- بیاباں مرگ ہے مجنون خاک آلودہ تن کس کا
- بعد مجنوں کیوں نہ ہوں میں کار فرمائے جنوں
ردیف ج
ردیف چ
ردیف د
ردیف ر
- طلب میں بوسے کی کیا ہے حجت سوال دیگر جواب دیگر
- خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پر
- دکھا دو گر مانگ اپنی شب کو تو حشر برپا ہو کہکشاں پر
ردیف س
ردیف ف
ردیف ل
ردیف م
- پامال راہ عشق ہیں خلقت کی کھا ٹھوکر بھی ہم
- نکہت گل ہیں یا صبا ہیں ہم
- نہ دکھائیو ہجر کا درد و الم تجھے دیتا ہوں چرخ خدا کی قسم
- کچھ سرگزشت کہہ نہ سکے روبرو قلم
- جوں ذرہ نہیں ایک جگہ خاک نشیں ہم
- جو گزرے ہے بر عاشق کامل نہیں معلوم
- چشم میں کب اشک بھر لاتے ہیں ہم
ردیف ن
- اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوں
- شمیم زلف معنبر جو روئے یار سے لوں
- شب جو رخ پر خال سے وہ برقعہ کو اتارے سوتے ہیں
- سدا ہے اس آہ و چشم تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں
- قدم نہ رکھ مری چشم پرآب کے گھر میں
- نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں
- مل بیٹھنے یہ دے ہے فلک ایک دم کہاں
- لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میں
- خاندان قیس کا میں تو سدا سے پیر ہوں
- کبھو نہ اس رخ روشن پہ چھائیاں دیکھیں
- ہم پھڑک کر توڑتے ساری قفس کی تیلیاں
- ہوا اشک گلگوں بہار گریباں
- حرم کو شیخ مت جا ہے بت دل خواہ صورت میں
- فرصت ایک دم کی ہے جوں حباب پانی یاں
- اک قافلہ ہے بن ترے ہمراہ سفر میں
- دم لے اے کوہ کن اب تیشہ زنی خوب نہیں
- بادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوں