طوفاں ہے شیخ قہریا ہے
ردیف: ہے
طوفاں ہے شیخ قہریا ہے
جو حرف ہے تس کے تہریا ہے
دل کیوں نہ بھنور ہو آج میرا
چیرا ترے سر پے لہریا ہے
تجھ حسن کے باغ میں سریجن
خورشید گل دوپہریا ہے
اب دین ہوا زمانہ سازی
آفاق تمام دہریا ہے
ردیف: ہے
طوفاں ہے شیخ قہریا ہے
جو حرف ہے تس کے تہریا ہے
دل کیوں نہ بھنور ہو آج میرا
چیرا ترے سر پے لہریا ہے
تجھ حسن کے باغ میں سریجن
خورشید گل دوپہریا ہے
اب دین ہوا زمانہ سازی
آفاق تمام دہریا ہے
ماخذ: ویکی ماخذ · شاہ مبارک آبرو