غزل

ردیف الف

  1. یہ سبزہ اور یہ آب رواں اور ابر یہ گہرا
  2. یاد خدا کر بندے یوں ناحق عمر کوں کھونا کیا
  3. تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دوا
  4. رتا ہے ابرواں پر ہاتھ اکثر لاوبالی کا
  5. رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا
  6. قیامت راگ ظالم بھاؤ کافر گت ہے اے پنّا
  7. پلنگ کوں چھوڑ خالی گود سیں جب اٹھ گیا میتا
  8. نالاں ہوا ہے جل کر سینے میں من ہمارا
  9. نہ پاوے چال تیرے کی پیارے یہ ڈھلک دریا
  10. کیا شوخ اچپلے ہیں تیرے نین ممولا
  11. خدا کے واسطے اے یار ہم سیں آ مل جا
  12. کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا
  13. کہیں کیا تم سوں بے درد لوگو کسی سے جی کا مرم نہ پایا
  14. جلتے ہیں اور ہم سیں جب مانگتے ہو پیالہ
  15. انسان ہے تو کبر سیں کہتا ہے کیوں انا
  16. ہوا ہوں دل سیتی بندا پیا کی مہربانی کا
  17. ہے ہمن کا شام کوئی لے جا
  18. اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگا
  19. آیا ہے صبح نیند سوں اٹھ رسمسا ہوا

ردیف ت

  1. کوئل نیں آ کے کوک سنائی بسنت رت
  2. دل نیں پکڑی ہے یار کی صورت

ردیف چ

  1. شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ

ردیف ح

  1. زندگانی سراب کی سی طرح

ردیف خ

  1. اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ

ردیف ر

  1. سانپ سر مار اگر جو جاوے مر

ردیف ل

  1. مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دل
  2. بہار آئی گلی کی طرح دل کھول

ردیف م

  1. جلتے تھے تم کوں دیکھ کے غیر انجمن میں ہم
  2. دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہم

ردیف ن

  1. یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں
  2. تمہاری جب سیں آئی ہیں سجن دکھنے کو لال انکھیاں
  3. شب سیاہ ہوا روز اے سجن تجھ بن
  4. سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں
  5. سیر بہار حسن ہی انکھیوں کا کام جان
  6. نازنیں جب خرام کرتے ہیں
  7. مت مہر سیتی ہاتھ میں لے دل ہمارے کوں
  8. مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن
  9. کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں
  10. کنھیا کی طرح پیارے تری انکھیاں یہ سانوریاں
  11. کہو تم کس سبب روٹھے ہو پیارے بے گنہ ہم سیں
  12. عشق ہے اختیار کا دشمن
  13. حسن پر ہے خوب رویاں میں وفا کی خو نہیں
  14. ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن
  15. گرچہ اس بنیاد ہستی کے عناصر چار ہیں
  16. گلی اکیلی ہے پیارے اندھیری راتیں ہیں
  17. فجر اٹھ خواب سیں گلشن میں جب تم نے ملی انکھیاں
  18. دل ہے ترے پیار کرنے کوں
  19. دیکھ تو بے رحم عاشق نیں تجھے چھوڑا نہیں
  20. عاشق بپت کے مارے روتے ہوئے جدھر جاں

ردیف و

  1. یا سجن ترک ملاقات کرو
  2. اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو
  3. اس زلف جاں گزا کوں صنم کی بلا کہو

ردیف ہ

  1. کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ
  2. بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ

ردیف ی

  1. یہ تری دشنام کے پیچھے ہنسی گل زار سی
  2. یہ باؤ کیا پھری کہ تری لٹ پلٹ گئی
  3. نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی
  4. محبت سحر ہے یارو اگر حاصل ہو یک روئی
  5. خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی
  6. دیکھو تو جان تم کوں مناتے ہیں کب سیتی
  7. آشنائی بزور نہیں ہوتی
  8. تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے
  9. طوفاں ہے شیخ قہریا ہے
  10. نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے
  11. نگہ تیری کا اک زخمی نہ تنہا دل ہمارا ہے
  12. کیوں بند سب کھلے ہیں کیوں چیر اٹپٹا ہے
  13. کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے
  14. جال میں جس کے شوق آئی ہے
  15. ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے
  16. گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے
  17. دشمن جاں ہے تشنۂ خوں ہے
  18. چنچلاہٹ میں تو ممولا ہے
  19. اگر دل عشق سیں غافل رہا ہے
  20. آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے