غزل
ردیف الف
- یہ سبزہ اور یہ آب رواں اور ابر یہ گہرا
- یاد خدا کر بندے یوں ناحق عمر کوں کھونا کیا
- تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دوا
- رتا ہے ابرواں پر ہاتھ اکثر لاوبالی کا
- رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا
- قیامت راگ ظالم بھاؤ کافر گت ہے اے پنّا
- پلنگ کوں چھوڑ خالی گود سیں جب اٹھ گیا میتا
- نالاں ہوا ہے جل کر سینے میں من ہمارا
- نہ پاوے چال تیرے کی پیارے یہ ڈھلک دریا
- کیا شوخ اچپلے ہیں تیرے نین ممولا
- خدا کے واسطے اے یار ہم سیں آ مل جا
- کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا
- کہیں کیا تم سوں بے درد لوگو کسی سے جی کا مرم نہ پایا
- جلتے ہیں اور ہم سیں جب مانگتے ہو پیالہ
- انسان ہے تو کبر سیں کہتا ہے کیوں انا
- ہوا ہوں دل سیتی بندا پیا کی مہربانی کا
- ہے ہمن کا شام کوئی لے جا
- اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگا
- آیا ہے صبح نیند سوں اٹھ رسمسا ہوا
ردیف ت
ردیف چ
ردیف ح
ردیف خ
ردیف ر
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں
- تمہاری جب سیں آئی ہیں سجن دکھنے کو لال انکھیاں
- شب سیاہ ہوا روز اے سجن تجھ بن
- سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں
- سیر بہار حسن ہی انکھیوں کا کام جان
- نازنیں جب خرام کرتے ہیں
- مت مہر سیتی ہاتھ میں لے دل ہمارے کوں
- مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن
- کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں
- کنھیا کی طرح پیارے تری انکھیاں یہ سانوریاں
- کہو تم کس سبب روٹھے ہو پیارے بے گنہ ہم سیں
- عشق ہے اختیار کا دشمن
- حسن پر ہے خوب رویاں میں وفا کی خو نہیں
- ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن
- گرچہ اس بنیاد ہستی کے عناصر چار ہیں
- گلی اکیلی ہے پیارے اندھیری راتیں ہیں
- فجر اٹھ خواب سیں گلشن میں جب تم نے ملی انکھیاں
- دل ہے ترے پیار کرنے کوں
- دیکھ تو بے رحم عاشق نیں تجھے چھوڑا نہیں
- عاشق بپت کے مارے روتے ہوئے جدھر جاں
ردیف و
ردیف ہ
ردیف ی
- یہ تری دشنام کے پیچھے ہنسی گل زار سی
- یہ باؤ کیا پھری کہ تری لٹ پلٹ گئی
- نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی
- محبت سحر ہے یارو اگر حاصل ہو یک روئی
- خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی
- دیکھو تو جان تم کوں مناتے ہیں کب سیتی
- آشنائی بزور نہیں ہوتی
- تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے
- طوفاں ہے شیخ قہریا ہے
- نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے
- نگہ تیری کا اک زخمی نہ تنہا دل ہمارا ہے
- کیوں بند سب کھلے ہیں کیوں چیر اٹپٹا ہے
- کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے
- جال میں جس کے شوق آئی ہے
- ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے
- گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے
- دشمن جاں ہے تشنۂ خوں ہے
- چنچلاہٹ میں تو ممولا ہے
- اگر دل عشق سیں غافل رہا ہے
- آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے