غزل
ردیف الف
- اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
- اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا
- اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا
- جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا
- نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا
- کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا
- نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا
- تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا
- بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا
- ہماری آنکھوں میں اشکوں کا آ کے رہ جانا
- کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیرا
- تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کا
- جب کسی نے حال پوچھا رو دیا
- غم فراق مے و جام کا خیال آیا
- یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا
- دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا
- ہزار حیف چھٹا ساتھ ہم نشینوں کا
- ہو کے خوش ناز ہم ایسوں کے اٹھانے والا
- کس بری ساعت سے خط لے کر گیا
- کس پہ قابو جو تجھی پہ نہیں قابو اپنا
- فقط شور دل پر آرزو تھا
- لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا
- تھا اجل کا میں اجل کا ہو گیا
- شب کو مری چشم حسرت کا سب درد دل ان سے کہہ جانا
- میں جو حاصل ترے کوچے کی گدائی کرتا
- چست کمر کا کیا سبب تنگ قبا کی وجہ کیا
- جیے جائیں گے ہم بھی لب پہ دم جب تک نہیں آتا
- بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیا
- نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا
- مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا
- لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا
- کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا
- کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا
- کسی کو کیا خبر اے صبح وقت شام کیا ہوگا
- وہ عالمگیر جلوہ اور حسن مشترک تیرا
- جسے پالا تھا اک مدت تک آغوش تمنا میں
- سیاہ کار سیہ رو خطا شعار آیا
- غفلت میں ہوئی اوقات بسر اے عمر گریزاں کچھ نہ کیا
ردیف ت
ردیف ض
ردیف ف
ردیف ک
ردیف م
- ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
- یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم
- اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام
- تمام عمر نمک خوار تھے زمیں کے ہم
ردیف ن
- تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
- کہاں یہ تاب کہ چکھ چکھ کے یا گرا کے پیوں
- خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں
- جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں