مجھے فکر و سر وفا ہے ہنوز

ردیف: ہے ہنوز

مجھے فکر و سر وفا ہے ہنوز

بادۂ عشق نارسا ہے ہنوز

او نظر دل سے پھیرنے والے

دل تجھی پر مٹا ہوا ہے ہنوز

ساری دنیا ہو ناامید تو کیا

مجھے تیرا ہی آسرا ہے ہنوز

آستاں سے ابھی نظر نہ ہٹا

کوئی تقدیر آزما ہے ہنوز

محویت بے سبب نہیں سیمابؔ

روح پر کوئی چھا رہا ہے ہنوز

ماخذ: ویکی ماخذ · سیماب اکبرآبادی