غزل
ردیف الف
- اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا
- آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا
- بقدر شوق اقرار وفا کیا
- شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا
- مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا
- تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا
- روز فراق ہر طرف اک انتشار تھا
- ہم ہیں سر تا بہ پا تمنا
- جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیا
- جاگ اور دیکھ ذرا عالم ویراں میرا
- زندان کائنات میں محصور کر دیا
- جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا
- جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگا
- سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکا
ردیف ج
ردیف ر
ردیف ز
ردیف م
ردیف ن
- دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں
- شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں
- محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیں
- اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں
- جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں
- جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں
- کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میں
- میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں
- حد ہو کوئی تو صبر ترے ہجر پر کریں
- آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریں
- عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیں
ردیف و
ردیف ی
- نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی
- یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی
- سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
- بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئی
- افسوس گزر گئی جوانی
- ناحق شکایت غم دنیا کرے کوئی
- بڑی دلچسپیوں سے صبح شام زندگی ہوگی
- چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی
- جرس ہے کاروان اہل عالم میں فغاں میری
- غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے
- آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئے
- چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے
- ادراک خود آشنا نہیں ہے
- بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے
- ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے
- کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہے
- یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہے
- نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھے
- دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے
- حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے
- شام فرقت انتہائے گردش ایام ہے
- انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہے
- جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہے
- خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئے
- وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے
- اب اے بے درد کیا اس کے لئے ارشاد ہوتا ہے
- وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گے
- جو انساں باریاب پردۂ اسرار ہو جائے
- ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائے