وعدۂ وصل یار نے مارا

ردیف: نے مارا

وعدۂ وصل یار نے مارا

لذت انتظار نے مارا

جلوۂ گل عذار نے مارا

ایک جان بہار نے مارا

پائمال غم حوادث ہوں

ستم روزگار نے مارا

نہ کھلا عقدۂ فریب شہود

دیدۂ اعتبار نے مارا

دست جور خزاں کا کیا شکوہ

مجھ کو جوش بہار نے مارا

جبر اور وہ بھی کس غضب کا جبر

تہمت اختیار نے مارا

دے کے فرخؔ مجھے پیام وفا

اک تغافل شعار نے مارا

ماخذ: ویکی ماخذ · سید واجد علی فرخ بنارسی