تجلیات فرخ (۱۹۳۰)

ردیف الف

  1. سہے ستم پہ ستم پھر بھی مدعا نہ ملا
  2. وعدۂ وصل یار نے مارا
  3. خاک میں مل کے ہم آغوش بقا ہو جانا

ردیف ی

  1. پہلے مذاق درد تو پیدا کرے کوئی
  2. لطف آمیز ہر انداز ستم ہوتا ہے
  3. نقش طلسم وہم ہے دنیا کہیں جسے