غزل
ردیف الف
- وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا
- نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیا
- آپ آئے تو خیال دل ناشاد آیا
- آپ کے پہلو میں دشمن سو چکا
- یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا
- یہ کافر بت جنہیں دعویٰ ہے دنیا میں خدائی کا
- آئینہ دیکھتے ہی وہ دیوانہ ہو گیا
- کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگا
- در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کا
- مشکل اس کوچے سے اٹھنا ہو گیا
- نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیا
- نہ تارے افشاں نہ کہکشاں ہے نمونہ ہنستی ہوئی جبیں کا
- اگر ان کے لب پر گلا ہے کسی کا
- رنگ پر کل تھا ابھی لالۂ گلشن کیسا
- میں سمجھا جب جھلکتا سامنے جام شراب آیا
- ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا
- کوئے دشمن سے اسے چھپ کے نکلتے دیکھا
- اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا
- اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کا
- الفت میں عیاں سوز بتاں ہو نہیں سکتا
- ہنگام نزع گریہ یہاں بے کسی کا تھا
- دنیا سے الگ ہم نے میخانے کا در دیکھا
- یہی ہے ان کی نزاکت تو حال کیا ہوگا
- منہ زیر تاک کھولا واعظ بہت ہی چوکا
- ملا بھی یہ تو اسے پھر خدا نہیں ملتا
- رہ گیا پر وہ ترے چاک گریبانوں کا
- مکان دیکھے مکیں دیکھے لا مکاں دیکھا
- اتری ہے آسماں سے جو کل اٹھا تو لا
- مر کر ارے واعظ کوئی زندہ نہیں ہوتا
- مکان ملتے ہیں کیا لا مکاں نہیں ملتا
ردیف پ
ردیف ت
- ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات
- نظر آتی ہے دور کی صورت
- خواب میں بھی نظر آ جائے جو گھر کی صورت
- صبح ہے رات کہاں اب وہ کہاں رات کی بات
ردیف ٹ
ردیف ج
ردیف ح
ردیف د
ردیف ذ
ردیف ر
- کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پر
- بالائے بام غیر ہے میں آستان پر
- گنبد مدفن ہے یا ہے آسماں بالائے سر
- رہے ہم آشیاں میں بھی تو برق آشیاں ہو کر
- پردے پردے میں یہ کر لیتی ہیں راہیں کیوں کر
- فریاد جنوں اور ہے بلبل کی فغاں اور
- خدا کرے رہے جاری پیام یار نثار
ردیف ڑ
ردیف ش
ردیف ظ
ردیف ف
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں
- یہ بلا میرے سر چڑھی ہی نہیں
- منہ دکھا کر منہ چھپانا کچھ نہیں
- مجھ کو دیکھا تو ہنس کے کہتے ہیں
- وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیں
- کھٹکتے ہیں نگاہ باغباں میں
- ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریں
- یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیں
- عیش و عشرت سب سہی یہ دم نہیں تو کچھ نہیں
- دم آخر کسی کا شکوۂ بیداد کرتے ہیں
- صبح محشر بھی گوارا نہیں فرقت میری
- ستم ناروا کو روتے ہیں
- جو ان سے کہو وہ یقیں جانتے ہیں
- وہ ہوں مٹھی میں ان کی دل ہو ہم ہوں
- بت اپنے آپ کو کیا جانے کیا سمجھتے ہیں
- یہ کہاں سے ہم گئے ہیں کہاں کہیں کیا تری تگ و تاز میں
- ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوں
- ہم غریبوں پر جفا اچھی نہیں
- کون دل ہے مرے اللہ جو ناشاد نہیں
ردیف و
ردیف ہ
ردیف ی
- بات دل کی زبان پر آئی
- میرے پہلو میں ہمیشہ رہی صورت اچھی
- عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گی
- پی لی ہم نے شراب پی لی
- درد ہو تو دوا کرے کوئی
- نہ راس آئی ہم کو جوانی ہماری
- لے اڑے گیسو پریشانی مری
- آرزو بھی تو کر نہیں آتی
- جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی
- یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کی
- آتی تھی پہلے دل سے کبھی بو کباب کی
- یہ کوئی بات ہے سنتا نہ باغباں میری
- دل ڈھونڈھتی ہے نگہ کسی کی
- کیا ہوئی میری جوانی جوش پر آئی ہوئی
- نہ شبستاں ہے نہ اب شمع شبستاں کوئی
- جوانی مئے ارغوانی سے اچھی
- ساتھ سائے کی طرح وحشت میں عریانی ہوئی
- گلوں کے پردے میں شکلیں ہیں مہ جبینوں کی
- کسی سے وصل میں سنتے ہی جان سوکھ گئی
- ہوگی وہ دل میں جو ٹھانی جائے گی
- چھوڑتی ہی نہیں مجھ کو شب فرقت میری
- ہمارے دل میں کوئی آرزو نہیں باقی
- میرے لب پر کبھی تو بن کے دعا بھی آئی
- جانے والے نہ ہم اس کوچے میں آنے والے
- جوبن ان کا اٹھان پر کچھ ہے
- دشمن کی طرف ہو کے نکلنے نہیں دیتے
- جی اٹھے حشر میں پھر جی سے گزرنے والے
- گل مرقع ہیں ترے چاک گریبانوں کے
- ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلے
- عشق میں دل لگی سی رہتی ہے
- جان نکلے گی مری جان بڑی مشکل سے
- پردہ کس امر کا ہے اب اس بد نصیب سے
- حنا یہ کہتی ہے لو بے زبان پا کے مجھے
- یہ گوارا کہ مرا دست تمنا باندھے
- جس دن سے حرام ہو گئی ہے
- بہت ہی پردے میں اظہار آرزو کرتے
- یہ جتنی دیر ہوئی شیخ کو وضو کرتے
- زمین مے کدۂ عرش بریں معلوم ہوتی ہے
- غریب ہم ہیں غریبوں کی بھی خوشی ہو جائے
- مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہے
- غیر سے بد گمان ہو جاتے
- انہیں کے کام الٰہی مرا لہو آئے
- اور مے خانہ نشیں چور بنائے نہ گئے
- پیمانے میں وہ زہر نہیں گھول رہے تھے
- ضد ہماری دعا سے ہوتی ہے
- تیز ہے پینے میں ہو جائے گی آسانی مجھے
- پرا باندھے صف مژگاں کھڑی ہے
- وہ گل ہیں نہ ان کی وہ ہنسی ہے
- بھٹکا ہوا خیال ہے عقبیٰ کہیں جسے
- وعدہ کبھی سچا کوئی کرتا ہی نہیں ہے
- مطلب کی بات شکل سے پہچان جائیے
- میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیے