غزل

ردیف الف

  1. وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا
  2. نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیا
  3. آپ آئے تو خیال دل ناشاد آیا
  4. آپ کے پہلو میں دشمن سو چکا
  5. یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھا
  6. یہ کافر بت جنہیں دعویٰ ہے دنیا میں خدائی کا
  7. آئینہ دیکھتے ہی وہ دیوانہ ہو گیا
  8. کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگا
  9. در کھلا صبح کو پو پھٹتے ہی مے خانے کا
  10. مشکل اس کوچے سے اٹھنا ہو گیا
  11. نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیا
  12. نہ تارے افشاں نہ کہکشاں ہے نمونہ ہنستی ہوئی جبیں کا
  13. اگر ان کے لب پر گلا ہے کسی کا
  14. رنگ پر کل تھا ابھی لالۂ گلشن کیسا
  15. میں سمجھا جب جھلکتا سامنے جام شراب آیا
  16. ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا
  17. کوئے دشمن سے اسے چھپ کے نکلتے دیکھا
  18. اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا
  19. اف رے ابھار اف رے زمانہ اٹھان کا
  20. الفت میں عیاں سوز بتاں ہو نہیں سکتا
  21. ہنگام نزع گریہ یہاں بے کسی کا تھا
  22. دنیا سے الگ ہم نے میخانے کا در دیکھا
  23. یہی ہے ان کی نزاکت تو حال کیا ہوگا
  24. منہ زیر تاک کھولا واعظ بہت ہی چوکا
  25. ملا بھی یہ تو اسے پھر خدا نہیں ملتا
  26. رہ گیا پر وہ ترے چاک گریبانوں کا
  27. مکان دیکھے مکیں دیکھے لا مکاں دیکھا
  28. اتری ہے آسماں سے جو کل اٹھا تو لا
  29. مر کر ارے واعظ کوئی زندہ نہیں ہوتا
  30. مکان ملتے ہیں کیا لا مکاں نہیں ملتا

ردیف پ

  1. تھی ظرف وضو میں کوئی شے پی گئے کیا آپ

ردیف ت

  1. ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات
  2. نظر آتی ہے دور کی صورت
  3. خواب میں بھی نظر آ جائے جو گھر کی صورت
  4. صبح ہے رات کہاں اب وہ کہاں رات کی بات

ردیف ٹ

  1. ہو کے بیتاب بدل لیتے تھے اکثر کروٹ

ردیف ج

  1. بام پر آئے کتنی شان سے آج

ردیف ح

  1. جفا میں نام نکالو نہ آسماں کی طرح

ردیف د

  1. مجھ کو نہ دل پسند نہ دل کی یہ خو پسند
  2. ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعد

ردیف ذ

  1. لے گیا گھر سے انہیں غیر کے گھر کا تعویذ

ردیف ر

  1. کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پر
  2. بالائے بام غیر ہے میں آستان پر
  3. گنبد مدفن ہے یا ہے آسماں بالائے سر
  4. رہے ہم آشیاں میں بھی تو برق آشیاں ہو کر
  5. پردے پردے میں یہ کر لیتی ہیں راہیں کیوں کر
  6. فریاد جنوں اور ہے بلبل کی فغاں اور
  7. خدا کرے رہے جاری پیام یار نثار

ردیف ڑ

  1. ان کے ہوتے کون دیکھے دیدہ و دل کا بگاڑ

ردیف ش

  1. جو پلائے وہ رہے یا رب مے و ساغر سے خوش

ردیف ظ

  1. کافر بتوں کے نام ہوں کیوں کر تمام حفظ

ردیف ف

  1. روٹھے ہوئے کہ اپنے ذرا اب منائے زلف

ردیف ک

  1. تھکا لے اور دور آسماں تک

ردیف گ

  1. نہیں چھپتا ترے عتاب کا رنگ

ردیف ل

  1. جو تھے ہاتھ مہندی لگانے کے قابل
  2. کوئی پوچھے نہ ہم سے کیا ہوا دل
  3. چھیڑتے ہیں گدگداتے ہیں پھر ارماں آج کل

ردیف م

  1. کہنے بھی کچھ نہ پائے تھے آہ رسا سے ہم
  2. پایا جو تجھے تو کھو گئے ہم

ردیف ن

  1. دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں
  2. یہ بلا میرے سر چڑھی ہی نہیں
  3. منہ دکھا کر منہ چھپانا کچھ نہیں
  4. مجھ کو دیکھا تو ہنس کے کہتے ہیں
  5. وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیں
  6. کھٹکتے ہیں نگاہ باغباں میں
  7. ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریں
  8. یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیں
  9. عیش و عشرت سب سہی یہ دم نہیں تو کچھ نہیں
  10. دم آخر کسی کا شکوۂ بیداد کرتے ہیں
  11. صبح محشر بھی گوارا نہیں فرقت میری
  12. ستم ناروا کو روتے ہیں
  13. جو ان سے کہو وہ یقیں جانتے ہیں
  14. وہ ہوں مٹھی میں ان کی دل ہو ہم ہوں
  15. بت اپنے آپ کو کیا جانے کیا سمجھتے ہیں
  16. یہ کہاں سے ہم گئے ہیں کہاں کہیں کیا تری تگ و تاز میں
  17. ریاضؔ اک چلبلا سا دل ہو ہم ہوں
  18. ہم غریبوں پر جفا اچھی نہیں
  19. کون دل ہے مرے اللہ جو ناشاد نہیں

ردیف و

  1. وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہو

ردیف ہ

  1. اس حسن کا شیدا ہوں اس حسن کا دیوانہ
  2. مجھ کو لینا ہے ترے رنگ حنا کا بوسہ

ردیف ی

  1. بات دل کی زبان پر آئی
  2. میرے پہلو میں ہمیشہ رہی صورت اچھی
  3. عکس پر یوں آنکھ ڈالی جائے گی
  4. پی لی ہم نے شراب پی لی
  5. درد ہو تو دوا کرے کوئی
  6. نہ راس آئی ہم کو جوانی ہماری
  7. لے اڑے گیسو پریشانی مری
  8. آرزو بھی تو کر نہیں آتی
  9. جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی
  10. یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کی
  11. آتی تھی پہلے دل سے کبھی بو کباب کی
  12. یہ کوئی بات ہے سنتا نہ باغباں میری
  13. دل ڈھونڈھتی ہے نگہ کسی کی
  14. کیا ہوئی میری جوانی جوش پر آئی ہوئی
  15. نہ شبستاں ہے نہ اب شمع شبستاں کوئی
  16. جوانی مئے ارغوانی سے اچھی
  17. ساتھ سائے کی طرح وحشت میں عریانی ہوئی
  18. گلوں کے پردے میں شکلیں ہیں مہ جبینوں کی
  19. کسی سے وصل میں سنتے ہی جان سوکھ گئی
  20. ہوگی وہ دل میں جو ٹھانی جائے گی
  21. چھوڑتی ہی نہیں مجھ کو شب فرقت میری
  22. ہمارے دل میں کوئی آرزو نہیں باقی
  23. میرے لب پر کبھی تو بن کے دعا بھی آئی
  24. جانے والے نہ ہم اس کوچے میں آنے والے
  25. جوبن ان کا اٹھان پر کچھ ہے
  26. دشمن کی طرف ہو کے نکلنے نہیں دیتے
  27. جی اٹھے حشر میں پھر جی سے گزرنے والے
  28. گل مرقع ہیں ترے چاک گریبانوں کے
  29. ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلے
  30. عشق میں دل لگی سی رہتی ہے
  31. جان نکلے گی مری جان بڑی مشکل سے
  32. پردہ کس امر کا ہے اب اس بد نصیب سے
  33. حنا یہ کہتی ہے لو بے زبان پا کے مجھے
  34. یہ گوارا کہ مرا دست تمنا باندھے
  35. جس دن سے حرام ہو گئی ہے
  36. بہت ہی پردے میں اظہار آرزو کرتے
  37. یہ جتنی دیر ہوئی شیخ کو وضو کرتے
  38. زمین مے کدۂ عرش بریں معلوم ہوتی ہے
  39. غریب ہم ہیں غریبوں کی بھی خوشی ہو جائے
  40. مے رہے مینا رہے گردش میں پیمانہ رہے
  41. غیر سے بد گمان ہو جاتے
  42. انہیں کے کام الٰہی مرا لہو آئے
  43. اور مے خانہ نشیں چور بنائے نہ گئے
  44. پیمانے میں وہ زہر نہیں گھول رہے تھے
  45. ضد ہماری دعا سے ہوتی ہے
  46. تیز ہے پینے میں ہو جائے گی آسانی مجھے
  47. پرا باندھے صف مژگاں کھڑی ہے
  48. وہ گل ہیں نہ ان کی وہ ہنسی ہے
  49. بھٹکا ہوا خیال ہے عقبیٰ کہیں جسے
  50. وعدہ کبھی سچا کوئی کرتا ہی نہیں ہے
  51. مطلب کی بات شکل سے پہچان جائیے
  52. میں اٹھا رکھوں نہ کچھ ان کے لیے