غزل

ردیف الف

  1. ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کا

ردیف ن

  1. مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیں
  2. کیا غضب ہے کہ چار آنکھوں میں

ردیف و

  1. لازم ہے سوز عشق کا شعلہ عیاں نہ ہو

ردیف ی

  1. یوں جو ڈھونڈو تو یہاں شہر میں عنقا نکلے
  2. قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنے
  3. ناصحا فائدہ کیا ہے تجھے بہکانے سے
  4. کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیے
  5. کروں شکوہ نہ کیوں چرخ کہن سے
  6. اس طرح آہ کل ہم اس انجمن سے نکلے
  7. فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑے
  8. ابھی سے مت کہو دل کا خلل جاوے تو بہتر ہے