رجب علی بیگ سرور
۱۲۰۰ – ۱۲۸۶ ھ · ۱۷۸۶ – ۱۸۶۹ ء
مرزا رجب علی بیگ سرور دبستان لکھنؤ کے سب سے اہم نثر نگار ہیں۔ وہ۱۷۸۶ء میں لکھنوء میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مرزا اصغر علی بیگ تھا۔ سرور کی تعلیم و تربیت لکھنؤ میں ہی ہوئی۔ وہ عربی فارسی کے عالم تھے اور اس زمانے کے مشہور خوش نویسوں میں شمار ہوتے تھے۔ شاعری اور موسیقی سے بھی دلچسپی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ غازی الدین حیدر ناراض ہو گئے اور سرور کو حکماً لکھنؤ چھوڑنا پڑا۔ لکھنؤ سے کان پور پہنچے۔ یہاں حکیم سید اسد علی سے ملاقات ہوئی۔ ان کے ایما پر فسانہ عجائب لکھنا شروع کی۔ کچھ عرصہ بعد نصیر الدین حیدر کے بلاوے پر لکھنوء آ گئے اور ۱۸۴۶ء میں واجد علی شاہ کے دربار میں داخل ہوئے اور انھیں ۵۰ روپے ماہوار وظیفہ مقرر کیا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد آپ بنارس چلے گئے اور ایشوری نرائن سنگھ مہاراجا بنارس کی ملازمت اختیار کر لی۔۱۸۶۹ میں بنارس میں انتقال ہوا۔