صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پر
ردیف: پر
صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پر
ساقی لنڈھا شراب کو مستوں کے نام پر
زر ہو تو ہاتھ آئیں حسینان سیم تن
صیاد کا شکار ہے موقوف دام پر
قاصد کو یار کے ہوں پیمبر میں کہہ رہا
زاہد سنائیں گے صلوٰۃ اس کلام پر
ردیف: پر
صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پر
ساقی لنڈھا شراب کو مستوں کے نام پر
زر ہو تو ہاتھ آئیں حسینان سیم تن
صیاد کا شکار ہے موقوف دام پر
قاصد کو یار کے ہوں پیمبر میں کہہ رہا
زاہد سنائیں گے صلوٰۃ اس کلام پر
ماخذ: ویکی ماخذ · دیا شنکر نسیم