غزل
ردیف الف
- جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیا
- عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا
- اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا
- تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہارا
- چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوا
- نقاب چہرہ سے وہ شعلہ رو اٹھا لیتا
- چمن میں گل نے کہیں دعوئے جمال کیا
- اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھا
- عشق کی خوبی کہوں کیا آشنا
- خوں بہا کا خط لا دعوی دیا
- جلد و ماہ تو گھر سے نکلا
- یاد میں اس سرو قد کے دل مرا
ردیف ح
ردیف ر
- بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپر
- زاروں سے ڈریے پھولیے زر پر نہ زور پر
- صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پر
- چشم نم ہو تو امنڈ آتے ہیں دریا منہ پر
ردیف ف
ردیف ن
ردیف و
ردیف ھ
ردیف ی
- ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسی
- چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنی
- جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گی
- جب سے تیری آنکھ ہم سے پھر گئی
- محتسب سے ہوئی دم بھر بھی جو محفل خالی
- نام پر حرف نہ آنے دیجے
- میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے
- پھانس لیتی ہے دل سمجھ لیں گے
- ساقی قدح شراب دے دے
- در رہا سب پہ جو سخنور ہے
- ٹکڑے جگر کے آنکھ سے بارے نکل گئے
- دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہے
- کیوں خفا رشک حور ہوتا ہے
- دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرے
- خم نہ بن کر خود غرض ہو جائیے
- بے رخ ہے وہ پری دل دیوانہ کیا کرے
- دل کے آغوش میں وہ راحت جاں رہتا ہے
- دل سے ہر دم ہمیں آواز بکا آتی ہے
- یار ہے تو جس کو سمجھا غیر ہے
- جسے دیکھا ترا جویا ہے پیارے
- بند کر روزن در چاہو کہ رخنہ نہ رہے
- بالیں پہ ہو اے جان جو رعنائی سے گزرے