غزل

ردیف الف

  1. جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیا
  2. عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا
  3. اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا
  4. تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہارا
  5. چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوا
  6. نقاب چہرہ سے وہ شعلہ رو اٹھا لیتا
  7. چمن میں گل نے کہیں دعوئے جمال کیا
  8. اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھا
  9. عشق کی خوبی کہوں کیا آشنا
  10. خوں بہا کا خط لا دعوی دیا
  11. جلد و ماہ تو گھر سے نکلا
  12. یاد میں اس سرو قد کے دل مرا

ردیف ح

  1. قرص خور کو دیکھ کر تسکیں رکھ اے مہمان صبح

ردیف ر

  1. بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپر
  2. زاروں سے ڈریے پھولیے زر پر نہ زور پر
  3. صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پر
  4. چشم نم ہو تو امنڈ آتے ہیں دریا منہ پر

ردیف ف

  1. دل بہ دل آئینہ ہے دیر و حرم

ردیف ن

  1. بتوں کی اگر خود نمائی نہ دیکھوں

ردیف و

  1. قرار پر نہ ملو اضطراب ہو کہ نہ ہو

ردیف ھ

  1. ذلت ہے جو پھیلائے بشر پیش دگر ہاتھ

ردیف ی

  1. ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسی
  2. چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنی
  3. جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گی
  4. جب سے تیری آنکھ ہم سے پھر گئی
  5. محتسب سے ہوئی دم بھر بھی جو محفل خالی
  6. نام پر حرف نہ آنے دیجے
  7. میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے
  8. پھانس لیتی ہے دل سمجھ لیں گے
  9. ساقی قدح شراب دے دے
  10. در رہا سب پہ جو سخنور ہے
  11. ٹکڑے جگر کے آنکھ سے بارے نکل گئے
  12. دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہے
  13. کیوں خفا رشک حور ہوتا ہے
  14. دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرے
  15. خم نہ بن کر خود غرض ہو جائیے
  16. بے رخ ہے وہ پری دل دیوانہ کیا کرے
  17. دل کے آغوش میں وہ راحت جاں رہتا ہے
  18. دل سے ہر دم ہمیں آواز بکا آتی ہے
  19. یار ہے تو جس کو سمجھا غیر ہے
  20. جسے دیکھا ترا جویا ہے پیارے
  21. بند کر روزن در چاہو کہ رخنہ نہ رہے
  22. بالیں پہ ہو اے جان جو رعنائی سے گزرے