کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہے
کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہے
آنکھیں کیوں ہیں نظر خود جاتا ہے
کیا کیا درکار ہے یہ میں کیوں سوچوں
تو خود ہر چیز دے کے سمجھاتا ہے
کانوں کی غرض کلام بتلاتا ہے
آنکھیں کیوں ہیں نظر خود جاتا ہے
کیا کیا درکار ہے یہ میں کیوں سوچوں
تو خود ہر چیز دے کے سمجھاتا ہے
ماخذ: ویکی ماخذ · آرزو لکھنوی