غزل

ردیف الف

  1. وہ سر بام کب نہیں آتا
  2. پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا
  3. آنکھ سے دل میں آنے والا
  4. دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا
  5. دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا
  6. کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
  7. وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا
  8. اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا
  9. وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا
  10. گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا
  11. نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
  12. دل مکدر ہے آئینہ رو کا
  13. تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا
  14. نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا
  15. مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا
  16. کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا
  17. جہاں کہ ہے جرم ایک نگاہ کرنا
  18. جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھا

ردیف ر

  1. تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر

ردیف ن

  1. ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں
  2. مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں
  3. جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
  4. نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں
  5. آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
  6. گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں
  7. آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں
  8. قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں
  9. پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں
  10. دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
  11. خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں
  12. تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میں
  13. یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں

ردیف و

  1. بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو
  2. ہاں دید کا اقرار اگر ہو تو ابھی ہو

ردیف ہ

  1. تسکین دل کا یہ کیا قرینہ
  2. ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ

ردیف ی

  1. رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی
  2. حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کی
  3. آج بے آپ ہو گئے ہم بھی
  4. اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی
  5. مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی
  6. پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی
  7. یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھی
  8. نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے
  9. معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے
  10. یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے
  11. دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے
  12. کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے
  13. اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے
  14. اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
  15. جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہے
  16. کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے
  17. جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے
  18. دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہے
  19. بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے
  20. عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے
  21. میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے
  22. وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے
  23. پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے
  24. کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانے
  25. کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے
  26. ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیے
  27. تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سے