غزل
ردیف الف
- وہ سر بام کب نہیں آتا
- پھیر جو پڑنا تھا قسمت میں وہ حسب معمول پڑا
- آنکھ سے دل میں آنے والا
- دور تھے ہوش و حواس اپنے سے بھی بیگانہ تھا
- دل دے رہا تھا جو اسے بے دل بنا دیا
- کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
- وعدہ سچا ہے کہ جھوٹا مجھے معلوم نہ تھا
- اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جا
- وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا
- گنوا کے دل سا گہر درد سر خرید لیا
- نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
- دل مکدر ہے آئینہ رو کا
- تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا
- نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا
- مجھ کو دل قسمت نے اس کو حسن غارت گر دیا
- کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا
- جہاں کہ ہے جرم ایک نگاہ کرنا
- جتنا تھا سرگرم کار اتنا ہی دل ناکام تھا
ردیف ر
ردیف ن
- ہیں دیس بدیس ایک گزر اور بسر میں
- مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں
- جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
- نظر اس چشم پہ ہے جام لیے بیٹھا ہوں
- آنے میں جھجھک ملنے میں حیا تم اور کہیں ہم اور کہیں
- گورے گورے چاند سے منہ پر کالی کالی آنکھیں ہیں
- آرام کے تھے ساتھی کیا کیا جب وقت پڑا تو کوئی نہیں
- قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں
- پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں
- دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں
- خالی بیٹھے کیوں دن کاٹیں آؤ رے جی اک کام کریں
- تلاش رنگ میں آوارہ مثل بو ہوں میں
- یہی اک نباہ کی شکل ہے وہ جفا کریں میں وفا کروں
ردیف و
ردیف ہ
ردیف ی
- رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی
- حسن سے شرح ہوئی عشق کے افسانے کی
- آج بے آپ ہو گئے ہم بھی
- اول شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی
- مرے جوش غم کی ہے عجب کہانی
- پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی
- یوں دور دور دل سے ہو ہو کے دل نشیں بھی
- نالے مجبوروں کے خالی نہیں جانے والے
- معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے
- یہ داستان دل ہے کیا ہو ادا زباں سے
- دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے
- کرم ان کا خود ہے بڑھ کر مری حد التجا سے
- اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دے
- اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
- جو بت ہے یہاں اپنی جا ایک ہی ہے
- کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہے
- جو دل ساتھ چھٹنے سے گھبرا رہا ہے
- دم بخود بیٹھ کے خود جیسے زباں گیلی ہے
- بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے
- عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے
- میر محفل نہ ہوئے گرمئ محفل تو ہوئے
- وہ بن کر بے زباں لینے کو بیٹھے ہیں زباں مجھ سے
- پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے
- کہیں سر پٹکتے دیوانے کہیں پر جھلستے پروانے
- کچھ میں نے کہی ہے نہ ابھی اس نے سنی ہے
- ہم آج کھائیں گے اک تیر امتحاں کے لیے
- تمہیں کیا کام نالوں سے تمہیں کیا کام آہوں سے