غزل
ردیف الف
- میں نے عریاں تجھے اے رشک قمر دیکھ لیا
- آگ پر رشک سے میں چاک گریباں لوٹا
- ہنر سے نیاریوں کے حال یہ ظاہر ہوا ہم کو
- ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتش
- یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا
- سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
- آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
- چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا
- شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
- حسن پری اک جلوۂ مستانہ ہے اس کا
- فریب حسن سے گبر و مسلماں کا چلن بگڑا
- کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا
- تری زلفوں نے بل کھایا تو ہوتا
- ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا
- وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا
- آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا
- محبت کا تری بندہ ہر اک کو اے صنم پایا
- دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیا
- بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا
- ہنگام نزع محو ہوں تیرے خیال کا
- طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا
- ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کا
- بلبل گلوں سے دیکھ کے تجھ کو بگڑ گیا
- اس کے کوچے میں مسیحا ہر سحر جاتا رہا
- انصاف کی ترازو میں تولا عیاں ہوا
- غم نہیں گو اے فلک رتبہ ہے مجھ کو خار کا
- توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا
- وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا
- جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا
- رخ و زلف پر جان کھویا کیا
- جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا
- لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا
- کعبہ و دیر میں ہے کس کے لیے دل جاتا
- حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
- حسن کس روز ہم سے صاف ہوا
- تیری جو یاد اے دل خواہ بھولا
- منتظر تھا وہ تو جست و جو میں یہ آوارہ تھا
- فرط شوق اس بت کے کوچہ میں لگا لے جائے گا
- روز مولود سے ساتھ اپنے ہوا غم پیدا
- دل شہید رہ دامان نہ ہوا تھا سو ہوا
- قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا
- سبزہ بالائے ذقن دشمن ہے خلق اللہ کا
ردیف ت
ردیف ٹ
ردیف خ
ردیف د
ردیف ر
ردیف ز
ردیف ف
ردیف م
- وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہم
- غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
- آخر کار چلے تیر کی رفتار قدم
- آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہم
- چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم
ردیف ن
- دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں
- تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
- اس شش جہت میں خوب تری جستجو کریں
- دل کی کدورتیں اگر انساں سے دور ہوں
- بلبل کو خار خار دبستاں ہے ان دنوں
- خار مطلوب جو ہووے تو گلستاں مانگوں
- مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں
- برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں
- برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں
- پسے دل اس کی چتون پر ہزاروں
ردیف ی
- دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی
- پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانی
- صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی
- کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیری
- بازار دہر میں تری منزل کہاں نہ تھی
- شب فرقت میں یار جانی کی
- موت مانگوں تو رہے آرزو خواب مجھے
- جاں بخش لب کے عشق میں ایذا اٹھائیے
- یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
- دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
- اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے
- نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے
- کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے
- یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے
- رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجئے
- وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
- مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے
- ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے
- پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہے
- آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے
- زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے
- یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئے
- کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے
- عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سے
- کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے
- دل بہت تنگ رہا کرتا ہے
- خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھے
- عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہے
- حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
- تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہے
- موت مانگوں تو رہے آرزوئے خواب مجھے
- کوئی اچھا نہیں ہوتا ہے بری چالوں سے
- اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے
- عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے
- ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیے
- جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے
- شہرۂ آفاق مجھ سا کون سا دیوانہ ہے
- سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالے
- لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالے
- طاق ابرو ہیں پسند طبع اک دل خواہ کے
- سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے