غزل

ردیف الف

  1. چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا

ردیف ب

  1. پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شراب

ردیف ک

  1. گداز دل سے پروانہ ہوا خاک

ردیف و

  1. مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہو
  2. مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہو

ردیف ی

  1. درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی
  2. جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی
  3. کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے