غزل

ردیف الف

  1. یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا
  2. وہ حسیں بام پر نہیں آتا
  3. نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا
  4. منہ مرا ایک ایک تکتا تھا
  5. کسی کو دیکھ کر بے خود دل کام ہو جانا
  6. خراب و خستہ ہوئے خاک میں شباب ملا
  7. کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا
  8. کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا
  9. ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا
  10. حفیظؔ وصل میں کچھ ہجر کا خیال نہ تھا
  11. دنیا میں یوں تو ہر کوئی اپنی سی کر گیا
  12. دیوانے ہوئے صحرا میں پھرے یہ حال تمہارے غم نے کیا
  13. چاک داماں نہ رہا چاک گریباں نہ رہا
  14. بت کدہ نزدیک کعبہ دور تھا
  15. اب تو نہیں آسرا کسی کا
  16. آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیا

ردیف ب

  1. جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اب
  2. آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب

ردیف ت

  1. یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی بات
  2. دل میں ہیں وصل کے ارمان بہت
  3. دل اس لئے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوست

ردیف ٹ

  1. دل پر لگا رہی ہے وہ نیچی نگاہ چوٹ

ردیف ث

  1. شب وصل ہے بحث حجت عبث

ردیف د

  1. دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید

ردیف ذ

  1. لکھ دے عامل کوئی ایسا تعویذ

ردیف ر

  1. پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کر

ردیف ض

  1. یوں اٹھا دے ہمارے جی سے غرض

ردیف ق

  1. کوئی جہاں میں نہ یا رب ہو مبتلائے فراق

ردیف ل

  1. جان ہی جائے تو جائے درد دل

ردیف ن

  1. شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں
  2. نازنیں جن کے کچھ نیاز نہیں
  3. محبت کیا بڑھی ہے وہم باہم بڑھتے جاتے ہیں
  4. کہیں مرنے والے کہا مانتے ہیں
  5. افسردگئ دل سے یہ رنگ ہے سخن میں

ردیف و

  1. سن کے میرے عشق کی روداد کو
  2. قاصد خلاف خط کہیں تیرا بیاں نہ ہو
  3. بتاؤں کیا کسی کو میں کہ تم کیا چیز ہو کیا ہو

ردیف ہ

  1. پی ہم نے بہت شراب توبہ

ردیف ی

  1. ان کی یہ ضد کہ مرے گھر میں نہ آئے کوئی
  2. ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی
  3. جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتی
  4. ہو ترک کسی سے نہ ملاقات کسی کی
  5. حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی
  6. گو یہ رکھتی نہیں انسان کی حالت اچھی
  7. بگڑ جاتے تھے سن کر یاد ہے کچھ وہ زمانہ بھی
  8. ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کی
  9. زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے
  10. یوں تو حسین اکثر ہوتے ہیں شان والے
  11. یہی مسئلہ ہے جو زاہدو تو مجھے کچھ اس میں کلام ہے
  12. وہ ہمکنار ہے جام شراب ہاتھ میں ہے
  13. وصل میں آپس کی حجت اور ہے
  14. وصل آسان ہے کیا مشکل ہے
  15. اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے
  16. ان کو دل دے کے پشیمانی ہے
  17. صبح کو آئے ہو نکلے شام کے
  18. شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے
  19. شب وصال لگایا جو ان کو سینے سے
  20. صدمے جو کچھ ہوں دل پہ سہیے
  21. مصیبتیں تو اٹھا کر بڑی بڑی بھولے
  22. مژگاں ہیں غضب ابروے خم دار کے آگے
  23. مرے عیبوں کی اصلاحیں ہوا کیں بحث دشمن سے
  24. خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے
  25. جاؤ بھی جگر کیا ہے جو بیداد کرو گے
  26. اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے
  27. ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے
  28. ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے
  29. ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے
  30. دیا جب جام مے ساقی نے بھر کے
  31. دل ہے تو ترے وصل کے ارمان بہت ہیں
  32. بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
  33. عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے