غزل
ردیف الف
- یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا
- وہ حسیں بام پر نہیں آتا
- نہ آ جائے کسی پر دل کسی کا
- منہ مرا ایک ایک تکتا تھا
- کسی کو دیکھ کر بے خود دل کام ہو جانا
- خراب و خستہ ہوئے خاک میں شباب ملا
- کرنا جو محبت کا اقرار سمجھ لینا
- کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا
- ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا
- حفیظؔ وصل میں کچھ ہجر کا خیال نہ تھا
- دنیا میں یوں تو ہر کوئی اپنی سی کر گیا
- دیوانے ہوئے صحرا میں پھرے یہ حال تمہارے غم نے کیا
- چاک داماں نہ رہا چاک گریباں نہ رہا
- بت کدہ نزدیک کعبہ دور تھا
- اب تو نہیں آسرا کسی کا
- آغاز محبت میں برسوں یوں ضبط سے ہم نے کام لیا
ردیف ب
ردیف ت
- یاد ہے پہلے پہل کی وہ ملاقات کی بات
- دل میں ہیں وصل کے ارمان بہت
- دل اس لئے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوست
ردیف ٹ
ردیف ث
ردیف د
ردیف ذ
ردیف ر
ردیف ض
ردیف ق
ردیف ل
ردیف ن
- شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں
- نازنیں جن کے کچھ نیاز نہیں
- محبت کیا بڑھی ہے وہم باہم بڑھتے جاتے ہیں
- کہیں مرنے والے کہا مانتے ہیں
- افسردگئ دل سے یہ رنگ ہے سخن میں
ردیف و
- سن کے میرے عشق کی روداد کو
- قاصد خلاف خط کہیں تیرا بیاں نہ ہو
- بتاؤں کیا کسی کو میں کہ تم کیا چیز ہو کیا ہو
ردیف ہ
ردیف ی
- ان کی یہ ضد کہ مرے گھر میں نہ آئے کوئی
- ساتھ رہتے اتنی مدت ہو گئی
- جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتی
- ہو ترک کسی سے نہ ملاقات کسی کی
- حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی
- گو یہ رکھتی نہیں انسان کی حالت اچھی
- بگڑ جاتے تھے سن کر یاد ہے کچھ وہ زمانہ بھی
- ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کی
- زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے
- یوں تو حسین اکثر ہوتے ہیں شان والے
- یہی مسئلہ ہے جو زاہدو تو مجھے کچھ اس میں کلام ہے
- وہ ہمکنار ہے جام شراب ہاتھ میں ہے
- وصل میں آپس کی حجت اور ہے
- وصل آسان ہے کیا مشکل ہے
- اس کو آزادی نہ ملنے کا ہمیں مقدور ہے
- ان کو دل دے کے پشیمانی ہے
- صبح کو آئے ہو نکلے شام کے
- شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے
- شب وصال لگایا جو ان کو سینے سے
- صدمے جو کچھ ہوں دل پہ سہیے
- مصیبتیں تو اٹھا کر بڑی بڑی بھولے
- مژگاں ہیں غضب ابروے خم دار کے آگے
- مرے عیبوں کی اصلاحیں ہوا کیں بحث دشمن سے
- خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے
- جاؤ بھی جگر کیا ہے جو بیداد کرو گے
- اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے
- ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے
- ہوئے عشق میں امتحاں کیسے کیسے
- ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے
- دیا جب جام مے ساقی نے بھر کے
- دل ہے تو ترے وصل کے ارمان بہت ہیں
- بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
- عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے