غزل

ردیف الف

  1. ان کا جلوہ نہیں دیکھا جاتا
  2. کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سنا
  3. آئینہ تمہارے نقش پا کا
  4. چشم ظاہر سے رخ یار کا پردہ دیکھا
  5. حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا (I)
  6. جب مرا مہر جلوہ گر ہوگا
  7. حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا (II)
  8. کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتا

ردیف ب

  1. وہ من گئے تو وصل کا ہوگا مزا نصیب
  2. مل گیا دل نکل گیا مطلب
  3. دیکھے اگر یہ گرمئ بازار آفتاب

ردیف ر

  1. چھپ گیا یار خود نما ہو کر

ردیف م

  1. راز دل لاتے ہیں زباں تک ہم

ردیف ن

  1. ہر سخن میں وہ سحر کرتے ہیں

ردیف و

  1. حال مرگ بے کسی سن کر اثر کوئی نہ ہو
  2. کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لو

ردیف ی

  1. کچھ حسینوں کی محبت بھی بری ہوتی ہے
  2. وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہے
  3. مرے مرنے سے تم کو فکر اے دل دار کیسی ہے
  4. تم بھی ہو خنجر خوشاب بھی ہے
  5. جلوے ترے جو رونق بازار ہو گئے