غزل
ردیف الف
- یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہا
- اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
- نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میرا
- جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھنا
- حسن کو اس کے خط کا داغ لگا
- ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جا
- ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینا
- ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلا
- گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتا
- دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کا
- دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرا
- عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا
- اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارا
ردیف د
ردیف ر
- رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پر
- قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبر
- جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبر
- آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کر
- آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کر
ردیف ش
ردیف ف
ردیف ل
- راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے مل
- پھری سی دیکھتا ہوں اس چمن کی کچھ ہوا بلبل
- کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوال
- کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے مل
ردیف م
- نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کام
- کم تر یا بیشتر گئے ہم
- ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھوم
- دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہم