غزل

ردیف الف

  1. یار ابتدائے عشق سے بے زار ہی رہا
  2. اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
  3. نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میرا
  4. جس کا میسر نہ تھا بھر کے نظر دیکھنا
  5. حسن کو اس کے خط کا داغ لگا
  6. ہر گھڑی مت روٹھ اس سے پھیر پل میں مل نہ جا
  7. ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینا
  8. ہے رشک وصل سے غم دل دار ہی بھلا
  9. گر عشق سے واقف مرے محبوب نہ ہوتا
  10. دل نے پایا جو مرے مژدہ تری پاتی کا
  11. دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرا
  12. عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا
  13. اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارا

ردیف د

  1. یا الٰہی مرا دل دار سلامت باشد

ردیف ر

  1. رکھا پا جہاں میں نگارا زمیں پر
  2. قاصد خوش فال لایا اس کے آنے کی خبر
  3. جان کر کہتا ہے ہم سے اپنے جانے کی خبر
  4. آتا ہوں جب اس گلی سے سو سو خواری کھینچ کر
  5. آئے ہیں ہم جہاں میں غم لے کر

ردیف ش

  1. وفا کے ہیں خوان پر نوالے ز آب اول دوم بہ آتش
  2. ساقی ہیں روز نو بہار یک دو سہ چار پنج و شش

ردیف ف

  1. ہم عشق سوا کم ہیں کسی نام سے واقف

ردیف ل

  1. راہ رستے میں تو یوں رہتا ہے آ کر ہم سے مل
  2. پھری سی دیکھتا ہوں اس چمن کی کچھ ہوا بلبل
  3. کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوال
  4. کب تلک پیوے گا تو تر دامنوں سے مل کے مل

ردیف م

  1. نہ غرض ننگ سے رکھتے ہیں نہ کچھ نام سے کام
  2. کم تر یا بیشتر گئے ہم
  3. ہر طرف ہے اس سے میرے دل کے لگ جانے میں دھوم
  4. دیکھیں تجھے نہ آویں گے ہم

ردیف ن

  1. جو ہمیں چاہے اس کے چاکر ہیں
  2. ایک دم خشک مرا دیدۂ تر ہے کہ نہیں

ردیف و

  1. کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں تو
  2. بے وفا گو ملے نہ تو مجھ کو

ردیف ھ

  1. آشنا کب ہو ہے یہ ذکر دل شاد کے ساتھ

ردیف ی

  1. میری اس پیاری جھب سے آنکھ لگی
  2. سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نے
  3. کرے عاشق پہ وہ بیداد جتنا اس کا جی چاہے
  4. عشق میں گل کے جو نالاں بلبل غم ناک ہے
  5. ان دونوں گھر کا خانہ خدا کون غیر ہے
  6. ہم آپ کو تو عشق میں برباد کریں گے
  7. چاہے سو ہمیں کر تو گنہ گار ہیں تیرے