غزل

ردیف الف

  1. کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپنا
  2. گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا

ردیف ت

  1. پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذت

ردیف ن

  1. جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیں
  2. دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں
  3. عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں

ردیف و

  1. کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کرو

ردیف ی

  1. گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالی
  2. میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگے