غزل

ردیف الف

  1. بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا
  2. بت بے‌ درد کا غم مونس ہجراں نکلا
  3. پیہم دیا پیالۂ مے برملا دیا
  4. تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہا
  5. حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا
  6. دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا
  7. دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا
  8. دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
  9. کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا
  10. نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا
  11. ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیا
  12. یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا
  13. یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا

ردیف ب

  1. حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب

ردیف ج

  1. رنگ لایا ہے ہجوم ساغر و پیمانہ آج

ردیف ز

  1. وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز

ردیف س

  1. بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس

ردیف ک

  1. چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
  2. محروم طرب ہے دل دلگیر ابھی تک

ردیف گ

  1. دیدنی ہیں دل خراب کے رنگ

ردیف ل

  1. قوی دل شادماں دل پارسا دل

ردیف م

  1. اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم
  2. روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
  3. سیہ کار تھے باصفا ہو گئے ہم

ردیف ن

  1. اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں
  2. بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں
  3. بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
  4. پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں
  5. جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیں
  6. خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
  7. سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں
  8. فیض محبت سے ہے قید محن
  9. کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں
  10. لطف کی ان سے التجا نہ کریں
  11. نہ سہی گر انہیں خیال نہیں
  12. ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیں
  13. وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

ردیف و

  1. پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو
  2. حسن بے مہر کو پروائے تمنا کیا ہو
  3. نہ سمجھے دل فریب آرزو کو

ردیف ہ

  1. گھٹے گا تیرے کوچے میں وقار آہستہ آہستہ

ردیف ی

  1. آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی
  2. آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی
  3. ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی
  4. برکتیں سب ہیں عیاں دولت روحانی کی
  5. بیکلی سے مجھے راحت ہوگی
  6. تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی
  7. چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
  8. خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی
  9. درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی
  10. دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئی
  11. نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھی
  12. ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
  13. آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلے
  14. اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کے
  15. اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
  16. تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے
  17. ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے
  18. توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
  19. جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے
  20. چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
  21. رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے
  22. روش حسن مراعات چلی جاتی ہے
  23. ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے
  24. عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے
  25. قسمت شوق آزما نہ سکے
  26. کیا کام انہیں پرسش ارباب وفا سے
  27. کیا وہ اب نادم ہیں اپنے جور کی روداد سے
  28. کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے
  29. مستی کے پھر آ گئے زمانے
  30. مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہے
  31. نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہے
  32. نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
  33. ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے
  34. ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتے
  35. وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے
  36. یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے