غزل
ردیف الف
- بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا
- بت بے درد کا غم مونس ہجراں نکلا
- پیہم دیا پیالۂ مے برملا دیا
- تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہا
- حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا
- دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا
- دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا
- دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
- کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتا
- نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا
- ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیا
- یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا
- یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا
ردیف ب
ردیف ج
ردیف ز
ردیف س
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں
- بدل لذت آزار کہاں سے لاؤں
- بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
- پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں
- جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیں
- خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
- سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں
- فیض محبت سے ہے قید محن
- کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں
- لطف کی ان سے التجا نہ کریں
- نہ سہی گر انہیں خیال نہیں
- ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیں
- وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں
ردیف و
ردیف ہ
ردیف ی
- آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی
- آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی
- ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی
- برکتیں سب ہیں عیاں دولت روحانی کی
- بیکلی سے مجھے راحت ہوگی
- تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی
- چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
- خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی
- درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی
- دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئی
- نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھی
- ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
- آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلے
- اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کے
- اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
- تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے
- ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے
- توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
- جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے
- چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
- رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے
- روش حسن مراعات چلی جاتی ہے
- ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے
- عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے
- قسمت شوق آزما نہ سکے
- کیا کام انہیں پرسش ارباب وفا سے
- کیا وہ اب نادم ہیں اپنے جور کی روداد سے
- کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے
- مستی کے پھر آ گئے زمانے
- مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہے
- نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہے
- نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
- ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھے
- ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتے
- وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے
- یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے