دیوان حبیب (۱۹۰۰)
ردیف الف
- بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا
- شراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیسا
- عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوا
- بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھا
- شب کہ مطرب تھا شراب ناب تھی پیمانہ تھا
- جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیسا
ردیف ب
ردیف ت
ردیف ٹ
ردیف خ
ردیف ر
ردیف ڑ
ردیف س
ردیف ظ
ردیف ن
ردیف ی
- رونا ان کا کام ہے ہر دم جل جل کر مر جانا بھی
- بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی
- دیکھ لو تم خوئے آتش اے قمر شیشہ میں ہے
- ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہے
- لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے
- وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئے
- شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہے
- کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے
- فراق میں دم الجھ رہا ہے خیال گیسو میں جانکنی ہے
- فلک کی گردشیں ایسی نہیں جن میں قدم ٹھہرے
- جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے
- ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہے
- فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سے