دیوان حبیب (۱۹۰۰)

ردیف الف

  1. بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا
  2. شراب پی جان تن میں آئی الم سے تھا دل کباب کیسا
  3. عقل پر پتھر پڑے الفت میں دیوانہ ہوا
  4. بنا کے آئینۂ تصور جہاں دل داغدار دیکھا
  5. شب کہ مطرب تھا شراب ناب تھی پیمانہ تھا
  6. جبین پر کیوں شکن ہے اے جان منہ ہے غصہ سے لال کیسا

ردیف ب

  1. مہر و الفت سے مآل تہذیب

ردیف ت

  1. ہے نگہباں رخ کا خال روئے دوست
  2. اس سے کیا چھپ سکے بنائی بات

ردیف ٹ

  1. گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ

ردیف خ

  1. ہے آٹھ پہر تو جلوہ نما تمثال نظر ہے پرتو رخ

ردیف ر

  1. کسی کی جبہ سائی سے کبھی گھستا نہیں پتھر

ردیف ڑ

  1. چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑ

ردیف س

  1. داغ دل ہیں غیرت صد لالہ زار اب کے برس

ردیف ظ

  1. قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ

ردیف ن

  1. سب میں ہوں پھر کسی سے سروکار بھی نہیں
  2. وہ یوں شکل طرز بیاں کھینچتے ہیں

ردیف ی

  1. رونا ان کا کام ہے ہر دم جل جل کر مر جانا بھی
  2. بڑھا دی اک نظر میں تو نے کیا توقیر پتھر کی
  3. دیکھ لو تم خوئے آتش اے قمر شیشہ میں ہے
  4. ہے نو جوانی میں ضعف پیری بدن میں رعشہ کمر میں خم ہے
  5. لیس ہو کر جو مرا ترک جفا کار چلے
  6. وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئے
  7. شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہے
  8. کوئی بات ایسی آج اے میری گل رخسار بن جائے
  9. فراق میں دم الجھ رہا ہے خیال گیسو میں جانکنی ہے
  10. فلک کی گردشیں ایسی نہیں جن میں قدم ٹھہرے
  11. جب شام ہوئی دل گھبرایا لوگ اٹھ کے برائے سیر چلے
  12. ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہے
  13. فریاد بھی میں کر نہ سکا بے خبری سے