غزل
ردیف الف
- وہ زار ہوں کہ سر پہ گلستاں اٹھا لیا
- وارد کوہ بیاباں جب میں دیوانہ ہوا
- اس زلف کے سودے کا خلل جائے تو اچھا
- پوچھے گا جو وہ رشک قمر حال ہمارا
- پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیا
- میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھا
- کوئی لے کر خبر نہیں آتا
- جو مہندی کا بٹنا ملا کیجئے گا
- عشق جان جہاں نصیب ہوا
- اس دور میں ہر اک تہ چرخ کہن لٹا
- گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھا
- دوپہر رات آ چکی حیلہ بہانہ ہو چکا
- دیدۂ جوہر سے بینا ہو گیا
- بدن یار کی بو باس اڑا لائے ہوا
- اے مہرؔ جو واں نقاب سر کا
- آفتاب اب نہیں نکلنے کا
ردیف ت
ردیف ر
ردیف س
ردیف ل
ردیف م
- اس کا حال کمر کھلا ہمدم
- کرتے ہیں شوق دید میں باتیں ہوا سے ہم
- کعبہ و بت خانہ والوں سے جدا بیٹھے ہیں ہم
- ہم سے کنارہ کیوں ہے ترے مبتلا ہیں ہم
- چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہم
ردیف ن
- ساتھ میں اغیار کے میں بھی صف مقتل میں ہوں
- رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیں
- ایذائیں اٹھائے ہوئے دکھ پاے ہوئے ہیں
- غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوں
- ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میں
- چین پہلو میں اسے صبح نہیں شام نہیں
- بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوں
- بہ خدا ہیں تری ہندو بت مے خوار آنکھیں
ردیف ہ
ردیف ی
- ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولی
- قطع ہو کر کاکل شب گیر آدھی رہ گئی
- گزرا اپنا پس مردن ہی سہی
- دل لے گئی وہ زلف رسا کام کر گئی
- زلف اندھیر کرنے والی ہے
- ذکر جاناں کر جو تجھ سے ہو سکے
- نالۂ گرم کے اور دم سرد بھرے کیا جئیں ہم تو مرے
- نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئے
- کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گے
- گریباں ہاتھ میں ہے پاؤں میں صحرا کا داماں ہے
- دریا طوفان بہہ رہا ہے
- بتوں کا ذکر کرو واعظ خدا کو کس نے دیکھا ہے