غزل

ردیف الف

  1. وہ زار ہوں کہ سر پہ گلستاں اٹھا لیا
  2. وارد کوہ بیاباں جب میں دیوانہ ہوا
  3. اس زلف کے سودے کا خلل جائے تو اچھا
  4. پوچھے گا جو وہ رشک قمر حال ہمارا
  5. پوشاک سیہ میں رخ جاناں نظر آیا
  6. میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھا
  7. کوئی لے کر خبر نہیں آتا
  8. جو مہندی کا بٹنا ملا کیجئے گا
  9. عشق جان جہاں نصیب ہوا
  10. اس دور میں ہر اک تہ چرخ کہن لٹا
  11. گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھا
  12. دوپہر رات آ چکی حیلہ بہانہ ہو چکا
  13. دیدۂ جوہر سے بینا ہو گیا
  14. بدن یار کی بو باس اڑا لائے ہوا
  15. اے مہرؔ جو واں نقاب سر کا
  16. آفتاب اب نہیں نکلنے کا

ردیف ت

  1. عجب ہے مہرؔ سے اس شوخ کی وصال کا وقت

ردیف ر

  1. عالم حیرت کا دیکھو یہ تماشا ایک اور

ردیف س

  1. پتلی کی عوض ہوں بت‌ رعناۓ بنارس
  2. کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس کریں کیا ہوس

ردیف ل

  1. کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصل

ردیف م

  1. اس کا حال کمر کھلا ہمدم
  2. کرتے ہیں شوق دید میں باتیں ہوا سے ہم
  3. کعبہ و بت خانہ والوں سے جدا بیٹھے ہیں ہم
  4. ہم سے کنارہ کیوں ہے ترے مبتلا ہیں ہم
  5. چھوڑیں گے گریباں کا نہ اک تار کبھی ہم

ردیف ن

  1. ساتھ میں اغیار کے میں بھی صف مقتل میں ہوں
  2. رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیں
  3. ایذائیں اٹھائے ہوئے دکھ پاے ہوئے ہیں
  4. غیر ہنستے ہیں فقط اس لئے ٹل جاتا ہوں
  5. ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میں
  6. چین پہلو میں اسے صبح نہیں شام نہیں
  7. بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوں
  8. بہ خدا ہیں تری ہندو بت مے خوار آنکھیں

ردیف ہ

  1. سر جھکاتا نہیں کبھی شیشہ

ردیف ی

  1. ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولی
  2. قطع ہو کر کاکل شب گیر آدھی رہ گئی
  3. گزرا اپنا پس مردن ہی سہی
  4. دل لے گئی وہ زلف رسا کام کر گئی
  5. زلف اندھیر کرنے والی ہے
  6. ذکر جاناں کر جو تجھ سے ہو سکے
  7. نالۂ گرم کے اور دم سرد بھرے کیا جئیں ہم تو مرے
  8. نہ دیا بوسۂ لب کھا کے قسم بھول گئے
  9. کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گے
  10. گریباں ہاتھ میں ہے پاؤں میں صحرا کا داماں ہے
  11. دریا طوفان بہہ رہا ہے
  12. بتوں کا ذکر کرو واعظ خدا کو کس نے دیکھا ہے