غزل

ردیف الف

  1. سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھا
  2. انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کا
  3. وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا
  4. رواںؔ کس کو خبر عنوان آغاز جہاں کیا تھا
  5. گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میرا
  6. نکل جائے یوں ہی فرقت میں دم کیا

ردیف ی

  1. جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھی
  2. تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئی
  3. یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گی
  4. راہ و رسم ابتدائی دیکھ لی
  5. غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سے