غزل
ردیف الف
- تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیا
- سامنے اس کے رو نہیں سکتا
- نہیں معتقد جو ترے دید کا
- مرے جب تک کہ دم میں دم رہے گا
- ان دنوں وہ ادھر نہیں آتا
- حال اب تنگ ہے زمانے کا
- گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کا
- دل میں ہر چند ہے خیال اس کا
ردیف ب
ردیف د
ردیف ذ
ردیف ر
ردیف ف
ردیف ک
ردیف م
- اس کمر کے خیال میں ہیں ہم
- تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشم
- تری طہارت کو شیخ کہہ تو کہاں سے لائیں اک آب جو ہم
- گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہم
ردیف ن
- یار کے تیر کا نشانہ ہوں
- تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوں
- تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں
- نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیں
- کافر ہوں گر کسی کو دیوانہ جانتا ہوں
- جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوں
- ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دن
- ہیں دل جگر ہمارے یہ مہر و ماہ دونوں
- چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیں
ردیف و
- اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم تو
- پیری میں بھلا ڈھونڈھئے کیا بخت جواں کو
- پریشان اے زلف بہر دم نہ ہو
- چھوڑ دے مار لات دنیا کو
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- نوبت اپنی تو جان تک پہنچی
- کشتی ہے تباہ دل شدوں کی
- اس تند خو سے جوں ہی مری آنکھ لڑ گئی
- دنیا کی جستجو تو ہم سے نہ ہو سکے گی
- چھوڑیئے کس طرح سے مے نوشی
- عیش و عشرت ہی میں کچھ ہے زندگی
- یاد ہیں وے دن تجھے ہم کیسے آواروں میں تھے
- وہ سعی قفس میں کر کہ ٹوٹے
- شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہے
- پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنے
- منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سے
- مرنا تو بہتر ہے جو مر جائیے
- لب پر جو مرے آہ غم آلود نہیں ہے
- کیا بدگمانیاں ہیں مری جان لیجئے
- خوش نما گرچہ مد کا ہالہ ہے
- جب ہوئے تم چمن میں آن کھڑے
- اس غم کدے سے کچھ نہ لگا ہاتھ ہمارے
- ہر چند کہ دیکھے ہے وہ پیار کی آنکھوں سے
- دیوانہ ہوں مجھے نہ تساہل سے باندھئے
- دامان دل سے گرد تعلق کو جھاڑئیے
- چشم سے غافل نہ ہوا چاہئے
- اپنی وہ بے ثبات ہستی ہے
- اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہے
- آج گلشن میں کس کا پرتو ہے
- آئینۂ دل میں کچھ اگر ہے