غزل

ردیف الف

  1. تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیا
  2. سامنے اس کے رو نہیں سکتا
  3. نہیں معتقد جو ترے دید کا
  4. مرے جب تک کہ دم میں دم رہے گا
  5. ان دنوں وہ ادھر نہیں آتا
  6. حال اب تنگ ہے زمانے کا
  7. گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کا
  8. دل میں ہر چند ہے خیال اس کا

ردیف ب

  1. کیجئے رندی کا پیشہ شیشہ شیشہ ہے شراب

ردیف د

  1. ہم ہی کرتے نہیں زلفوں کو تری ہار پسند

ردیف ذ

  1. لکھا خط اسے لے قلم اور کاغذ

ردیف ر

  1. اہل جہاں کے ملنے سے ہم احتراز کر

ردیف ف

  1. کیوں کہوں قامت کو تیرے اے بت رعنا الف

ردیف ک

  1. ہے آفتاب اور مرے دل کا داغ ایک

ردیف م

  1. اس کمر کے خیال میں ہیں ہم
  2. تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشم
  3. تری طہارت کو شیخ کہہ تو کہاں سے لائیں اک آب جو ہم
  4. گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہم

ردیف ن

  1. یار کے تیر کا نشانہ ہوں
  2. تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوں
  3. تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں
  4. نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیں
  5. کافر ہوں گر کسی کو دیوانہ جانتا ہوں
  6. جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوں
  7. ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دن
  8. ہیں دل جگر ہمارے یہ مہر و ماہ دونوں
  9. چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیں

ردیف و

  1. اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم تو
  2. پیری میں بھلا ڈھونڈھئے کیا بخت جواں کو
  3. پریشان اے زلف بہر دم نہ ہو
  4. چھوڑ دے مار لات دنیا کو

ردیف ہ

  1. مر رہتے ہیں در پر ترے دو چار ہمیشہ
  2. بڑھتی جاتی ہے میری اس کی چاہ

ردیف ھ

  1. اس شرمگیں کے منہ پہ نہ ہر دم نگاہ رکھ

ردیف ی

  1. نوبت اپنی تو جان تک پہنچی
  2. کشتی ہے تباہ دل شدوں کی
  3. اس تند خو سے جوں ہی مری آنکھ لڑ گئی
  4. دنیا کی جستجو تو ہم سے نہ ہو سکے گی
  5. چھوڑیئے کس طرح سے مے نوشی
  6. عیش و عشرت ہی میں کچھ ہے زندگی
  7. یاد ہیں وے دن تجھے ہم کیسے آواروں میں تھے
  8. وہ سعی قفس میں کر کہ ٹوٹے
  9. شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہے
  10. پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنے
  11. منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سے
  12. مرنا تو بہتر ہے جو مر جائیے
  13. لب پر جو مرے آہ غم آلود نہیں ہے
  14. کیا بدگمانیاں ہیں مری جان لیجئے
  15. خوش نما گرچہ مد کا ہالہ ہے
  16. جب ہوئے تم چمن میں آن کھڑے
  17. اس غم کدے سے کچھ نہ لگا ہاتھ ہمارے
  18. ہر چند کہ دیکھے ہے وہ پیار کی آنکھوں سے
  19. دیوانہ ہوں مجھے نہ تساہل سے باندھئے
  20. دامان دل سے گرد تعلق کو جھاڑئیے
  21. چشم سے غافل نہ ہوا چاہئے
  22. اپنی وہ بے ثبات ہستی ہے
  23. اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہے
  24. آج گلشن میں کس کا پرتو ہے
  25. آئینۂ دل میں کچھ اگر ہے