غزل

ردیف الف

  1. زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہا
  2. کاٹوں گا شب تڑپ کر رو کر سحر کروں گا
  3. برہمن لے کے جو میرے لیے زنار آیا
  4. گرنے کا بہت ڈر ہے اے دل نہ پھسل جانا
  5. پہلو کو ترے عشق میں ویراں نہیں دیکھا
  6. شعلۂ آہ نے سیکھا ہے جلانا دل کا
  7. ستم ہے تیرے عاشق کے لئے بیمار ہو جانا
  8. یار کہتا ہے تجلئ لقا تھی میں نہ تھا
  9. دل ویراں بھی تھا مسکن کسی کا
  10. خالی عاشق سے کبھی کوچۂ جاناں نہ رہا
  11. تماشا ہو جو دل میں عکس روئے یار ہو پیدا
  12. کیا جب صبر فرقت میں تو پھر ذکر بتاں کیسا
  13. چھپ کے غیروں سے دل میں آ جانا
  14. مرتے مرتے یہ ہم نے کام کیا
  15. مشکل ہے کہ پہلو سے جدا دل نہیں ہوتا
  16. تیغ ابرو کا جو قتیل ہوا
  17. سوزش شعلۂ فرقت سے فنا ہو جانا
  18. عشق بتاں کا جب سے مجھے ڈھنگ آ گیا
  19. اس دل کی عمارت میں تم جلوہ دکھا جانا
  20. دل جو آئینہ سا نہیں ہوتا
  21. اے صنم طالب نہیں وہ خلد سے گلزار کا

ردیف ر

  1. اس قدر ظلم و ستم اے ستم ایجاد نہ کر
  2. ہوئی سرگشتہ خاک اپنی غبار کارواں ہو کر
  3. عشق کو دل میں چھپا لیتے ہیں کامل کیوں کر

ردیف ن

  1. کون سی شے میں ترا نور نہیں
  2. آج قابو میں یہ مزاج نہیں
  3. درد دل وہ ہے کہ راحت سے سروکار نہیں
  4. گو شمع ہوں پہ محفل جاناں سے دور ہوں
  5. روح کے جانے کی قالب سے کوئی مدت نہیں
  6. طاقت صبر ترے بے سر و ساماں میں نہیں
  7. بتائیں تم سے کیا ہم عاشق بیمار کس کے ہیں

ردیف و

  1. دیتا ہوں دل جسے وہ کہیں بے وفا نہ ہو
  2. کہو تو آج دل بے قرار کیسے ہو
  3. کر دیا زلف پریشاں سا پریشاں مجھ کو
  4. اٹھا کر ناز سے برقع دکھا کر روئے زیبا کو
  5. نعش اس عاشق ناشاد کی اٹھوانے دو
  6. کہاں لے جائے گی دیکھوں یہ میری آرزو مجھ کو

ردیف ی

  1. ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی
  2. حالت تو دیکھ لی مری چشم پر آب کی
  3. ہے مرے پیش نظر چاند سی صورت تیری
  4. تیرے عاشق کو طلب گل کی نہ گلزار کی تھی
  5. کیا خبر تھی یار کے آتے ہی آفت آئے گی
  6. تمہارے دید کی حسرت بہت مشکل سے نکلے گی
  7. کیسی ہے آہ اپنی طبیعت بھری ہوئی
  8. فصل گل دیکھ کے افزوں ہوئی وحشت اپنی
  9. تمہارے دیکھنے کو حسرت حیرت فزا ٹھہری
  10. لیا ہے عشق نے کیا انتخاب کر کے مجھے
  11. دیکھیے گل کی محبت ہمیں کیا دیتی ہے
  12. خوں رلاتی ہے تری حسرت دیدار مجھے
  13. ممکن نہیں دوا ہے اس آزار کے لیے
  14. روبرو آنا چھپانا چھوڑ دے
  15. اے جذب دل وہ دن تو میسر خدا کرے
  16. آج سنتے ہیں کہ میرے گھر وہ یار آنے کو ہے
  17. ہجوم رنج و الم ہے یہ نیم جاں کے لیے
  18. تو ہے کعبہ میں تو پھر دل میں گزر کس کا ہے
  19. سمجھ کے ظلم کرو اے بتو خدا بھی ہے
  20. میں عاشق ہوں مجھے مقتل میں اپنا نام کرنا ہے
  21. صبر کر صبر دل زار یہ وحشت کیا ہے