غزل
ردیف الف
- زاہد کے دل میں بت ہے مسلماں نہیں رہا
- کاٹوں گا شب تڑپ کر رو کر سحر کروں گا
- برہمن لے کے جو میرے لیے زنار آیا
- گرنے کا بہت ڈر ہے اے دل نہ پھسل جانا
- پہلو کو ترے عشق میں ویراں نہیں دیکھا
- شعلۂ آہ نے سیکھا ہے جلانا دل کا
- ستم ہے تیرے عاشق کے لئے بیمار ہو جانا
- یار کہتا ہے تجلئ لقا تھی میں نہ تھا
- دل ویراں بھی تھا مسکن کسی کا
- خالی عاشق سے کبھی کوچۂ جاناں نہ رہا
- تماشا ہو جو دل میں عکس روئے یار ہو پیدا
- کیا جب صبر فرقت میں تو پھر ذکر بتاں کیسا
- چھپ کے غیروں سے دل میں آ جانا
- مرتے مرتے یہ ہم نے کام کیا
- مشکل ہے کہ پہلو سے جدا دل نہیں ہوتا
- تیغ ابرو کا جو قتیل ہوا
- سوزش شعلۂ فرقت سے فنا ہو جانا
- عشق بتاں کا جب سے مجھے ڈھنگ آ گیا
- اس دل کی عمارت میں تم جلوہ دکھا جانا
- دل جو آئینہ سا نہیں ہوتا
- اے صنم طالب نہیں وہ خلد سے گلزار کا
ردیف ر
- اس قدر ظلم و ستم اے ستم ایجاد نہ کر
- ہوئی سرگشتہ خاک اپنی غبار کارواں ہو کر
- عشق کو دل میں چھپا لیتے ہیں کامل کیوں کر
ردیف ن
- کون سی شے میں ترا نور نہیں
- آج قابو میں یہ مزاج نہیں
- درد دل وہ ہے کہ راحت سے سروکار نہیں
- گو شمع ہوں پہ محفل جاناں سے دور ہوں
- روح کے جانے کی قالب سے کوئی مدت نہیں
- طاقت صبر ترے بے سر و ساماں میں نہیں
- بتائیں تم سے کیا ہم عاشق بیمار کس کے ہیں
ردیف و
- دیتا ہوں دل جسے وہ کہیں بے وفا نہ ہو
- کہو تو آج دل بے قرار کیسے ہو
- کر دیا زلف پریشاں سا پریشاں مجھ کو
- اٹھا کر ناز سے برقع دکھا کر روئے زیبا کو
- نعش اس عاشق ناشاد کی اٹھوانے دو
- کہاں لے جائے گی دیکھوں یہ میری آرزو مجھ کو
ردیف ی
- ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی
- حالت تو دیکھ لی مری چشم پر آب کی
- ہے مرے پیش نظر چاند سی صورت تیری
- تیرے عاشق کو طلب گل کی نہ گلزار کی تھی
- کیا خبر تھی یار کے آتے ہی آفت آئے گی
- تمہارے دید کی حسرت بہت مشکل سے نکلے گی
- کیسی ہے آہ اپنی طبیعت بھری ہوئی
- فصل گل دیکھ کے افزوں ہوئی وحشت اپنی
- تمہارے دیکھنے کو حسرت حیرت فزا ٹھہری
- لیا ہے عشق نے کیا انتخاب کر کے مجھے
- دیکھیے گل کی محبت ہمیں کیا دیتی ہے
- خوں رلاتی ہے تری حسرت دیدار مجھے
- ممکن نہیں دوا ہے اس آزار کے لیے
- روبرو آنا چھپانا چھوڑ دے
- اے جذب دل وہ دن تو میسر خدا کرے
- آج سنتے ہیں کہ میرے گھر وہ یار آنے کو ہے
- ہجوم رنج و الم ہے یہ نیم جاں کے لیے
- تو ہے کعبہ میں تو پھر دل میں گزر کس کا ہے
- سمجھ کے ظلم کرو اے بتو خدا بھی ہے
- میں عاشق ہوں مجھے مقتل میں اپنا نام کرنا ہے
- صبر کر صبر دل زار یہ وحشت کیا ہے