غزل

ردیف الف

  1. ضبط نالہ سے آج کام لیا
  2. یہ رنگ گلاب کی کلی کا
  3. وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا
  4. اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا
  5. سخت نازک مزاج دلبر تھا
  6. رنگت یہ رخ کی اور یہ عالم نقاب کا
  7. مجھ کو تو مرض ہے بے خودی کا
  8. میری وحشت کا جو افسانہ بنایا ہوتا
  9. کس قدر تھا گرم نالہ بلبل ناشاد کا
  10. عشق اب میری جان ہے گویا
  11. حسن و الفت میں خدا نے ربط پیدا کر دیا
  12. ہمارا دل وہ گل ہے جس کو زلف یار میں دیکھا
  13. ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا (I)
  14. ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا (II)
  15. گھٹا دیا رتبہ ہر حسیں کا مٹا دیا رنگ حور عین کا
  16. دل ہے اپنا نہ اب جگر اپنا

ردیف ٹ

  1. دل پر اس کاکل رسا کی چوٹ

ردیف د

  1. کیا حنا خوں ریز نکلی ہائے پس جانے کے بعد

ردیف ر

  1. ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کر
  2. راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کر
  3. ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر
  4. دل کے سب داغ کھلے ہیں گل خنداں ہو کر
  5. چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کر
  6. بن ترے کیا کروں جہاں لے کر
  7. اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اور

ردیف ڑ

  1. چل کر نہ زلف یار کو تو اے صبا بگاڑ

ردیف ظ

  1. بیٹھ جا کر سر منبر واعظ

ردیف ق

  1. کہاں ہم اور کہاں اب شراب خانۂ عشق

ردیف ن

  1. یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں
  2. راز عشق اظہار کے قابل نہیں
  3. قاصد آیا مگر جواب نہیں
  4. قفس میں ہوں کہ طائر آشیاں میں
  5. نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں
  6. نیا سودا نیا درد نہانی لے کے آیا ہوں
  7. مزے بیتابیوں کے آ رہے ہیں
  8. ہستی ہے عدم مری نظر میں
  9. عجیب حسن ہے ان سرخ سرخ گالوں میں

ردیف و

  1. لاکھ دل مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہو
  2. بوئے مے پا کے میں چلتا ہوا مے خانے کو

ردیف ی

  1. ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گی
  2. انہیں عادت ہمیں لذت ستم کی
  3. کھو کے دل میرا تمہیں نا حق پشیمانی ہوئی
  4. حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئی
  5. ہاں جسے عاشقی نہیں آتی
  6. ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئی
  7. دل گیا دل لگی نہیں جاتی
  8. دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئی
  9. بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دی
  10. بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی
  11. اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کی
  12. عکس ہے آئینۂ دہر میں صورت میری
  13. ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی
  14. ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیری
  15. آج تک دل کی آرزو ہے وہی
  16. زمانہ ہے کہ گزرا جا رہا ہے
  17. یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے
  18. یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہے
  19. یہ کہہ گیا بت ناآشنا سنا کے مجھے
  20. وصال یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہے
  21. اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئے
  22. شباب ہو کہ نہ ہو حسن یار باقی ہے
  23. قفس میں اشک حسرت پر مدار زندگانی ہے
  24. پلا ساقی بہار آئے نہ آئے
  25. نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے
  26. مفت میں توڑ کے رکھ دی مری توبہ تو نے
  27. محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے
  28. مری طرف سے یہ بے خیالی نہ جانے ان کو خیال کیا ہے
  29. موجود تھے ابھی ابھی روپوش ہو گئے
  30. مرنے والے خوب چھوٹے گردش ایام سے
  31. مار ڈالا مسکرا کر ناز سے
  32. کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کر کے
  33. کیا جلد دن بہار کے یارب گزر گئے
  34. کہوں کیا اضطراب دل زباں سے
  35. جھوم کر آج جو متوالی گھٹا آئی ہے
  36. جام جب تک نہ چلے ہم نہیں ٹلنے والے
  37. عصمت کا ہے لحاظ نہ پروا حیا کی ہے
  38. حسن میں آفت جہاں تو ہے
  39. ہم تو قصوروار ہوئے آنکھ ڈال کے
  40. غیر الفت کا راز کیا جانے
  41. دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے
  42. دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہے
  43. چاہیئے دنیا نہ عقبیٰ چاہیئے
  44. چال ایسی وہ شوخ چلتا ہے
  45. بہا کر خون میرا مجھ سے بولے
  46. اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے
  47. اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سے
  48. عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہے