غزل
ردیف الف
- ضبط نالہ سے آج کام لیا
- یہ رنگ گلاب کی کلی کا
- وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا
- اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا
- سخت نازک مزاج دلبر تھا
- رنگت یہ رخ کی اور یہ عالم نقاب کا
- مجھ کو تو مرض ہے بے خودی کا
- میری وحشت کا جو افسانہ بنایا ہوتا
- کس قدر تھا گرم نالہ بلبل ناشاد کا
- عشق اب میری جان ہے گویا
- حسن و الفت میں خدا نے ربط پیدا کر دیا
- ہمارا دل وہ گل ہے جس کو زلف یار میں دیکھا
- ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا (I)
- ہائے دم بھر بھی دل ٹھہر نہ سکا (II)
- گھٹا دیا رتبہ ہر حسیں کا مٹا دیا رنگ حور عین کا
- دل ہے اپنا نہ اب جگر اپنا
ردیف ٹ
ردیف د
ردیف ر
- ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کر
- راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کر
- ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر
- دل کے سب داغ کھلے ہیں گل خنداں ہو کر
- چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کر
- بن ترے کیا کروں جہاں لے کر
- اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اور
ردیف ڑ
ردیف ظ
ردیف ق
ردیف ن
- یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں
- راز عشق اظہار کے قابل نہیں
- قاصد آیا مگر جواب نہیں
- قفس میں ہوں کہ طائر آشیاں میں
- نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں
- نیا سودا نیا درد نہانی لے کے آیا ہوں
- مزے بیتابیوں کے آ رہے ہیں
- ہستی ہے عدم مری نظر میں
- عجیب حسن ہے ان سرخ سرخ گالوں میں
ردیف و
ردیف ی
- ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گی
- انہیں عادت ہمیں لذت ستم کی
- کھو کے دل میرا تمہیں نا حق پشیمانی ہوئی
- حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئی
- ہاں جسے عاشقی نہیں آتی
- ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئی
- دل گیا دل لگی نہیں جاتی
- دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئی
- بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دی
- بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی
- اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کی
- عکس ہے آئینۂ دہر میں صورت میری
- ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی
- ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیری
- آج تک دل کی آرزو ہے وہی
- زمانہ ہے کہ گزرا جا رہا ہے
- یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے
- یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہے
- یہ کہہ گیا بت ناآشنا سنا کے مجھے
- وصال یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہے
- اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئے
- شباب ہو کہ نہ ہو حسن یار باقی ہے
- قفس میں اشک حسرت پر مدار زندگانی ہے
- پلا ساقی بہار آئے نہ آئے
- نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے
- مفت میں توڑ کے رکھ دی مری توبہ تو نے
- محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے
- مری طرف سے یہ بے خیالی نہ جانے ان کو خیال کیا ہے
- موجود تھے ابھی ابھی روپوش ہو گئے
- مرنے والے خوب چھوٹے گردش ایام سے
- مار ڈالا مسکرا کر ناز سے
- کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کر کے
- کیا جلد دن بہار کے یارب گزر گئے
- کہوں کیا اضطراب دل زباں سے
- جھوم کر آج جو متوالی گھٹا آئی ہے
- جام جب تک نہ چلے ہم نہیں ٹلنے والے
- عصمت کا ہے لحاظ نہ پروا حیا کی ہے
- حسن میں آفت جہاں تو ہے
- ہم تو قصوروار ہوئے آنکھ ڈال کے
- غیر الفت کا راز کیا جانے
- دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے
- دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہے
- چاہیئے دنیا نہ عقبیٰ چاہیئے
- چال ایسی وہ شوخ چلتا ہے
- بہا کر خون میرا مجھ سے بولے
- اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے
- اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سے
- عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہے