غزل
ردیف الف
- انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا
- کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گا
- لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا
- جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھا
- شاعر رنگیں فسانہ ہو گیا
- چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا
- کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کا
- ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتا
ردیف ن
- بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں
- مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں
- عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میں
ردیف ی
- رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی
- گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائی
- دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی
- یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی
- نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی
- مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہے
- جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے
- بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہے
- رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے
- میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے