غزل

ردیف الف

  1. انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا
  2. کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گا
  3. لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا
  4. جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھا
  5. شاعر رنگیں فسانہ ہو گیا
  6. چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا
  7. کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کا
  8. ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتا

ردیف ن

  1. بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں
  2. مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں
  3. عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میں

ردیف ی

  1. رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئی
  2. گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائی
  3. دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی
  4. یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی
  5. نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی
  6. مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہے
  7. جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے
  8. بہار آئی ہے پھر چمن میں نسیم اٹھلا کے چل رہی ہے
  9. رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے
  10. میں خودی میں مبتلا خود کو مٹانے کے لیے