غزل
ردیف الف
- گریباں کو جنوں میں تا بہ دامن چاک ہونا تھا
- تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا
- وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملا
ردیف پ
ردیف چ
ردیف ر
- بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر
- مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کر
- دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کر
ردیف س
ردیف ک
ردیف ن
- شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں
- نہ ٹھیری جب کوئی تسکین دل کی شکل یاروں میں
- جانے والا اضطراب دل نہیں
- صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں