غزل

ردیف الف

  1. گریباں کو جنوں میں تا بہ دامن چاک ہونا تھا
  2. تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا
  3. وہ دل نصیب ہوا جس کو داغ بھی نہ ملا

ردیف پ

  1. پا شکستوں کو جب جب ملیں گے آپ

ردیف چ

  1. اے مصور جو مری تصویر کھینچ

ردیف ر

  1. بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابر
  2. مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کر
  3. دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کر

ردیف س

  1. صد شکر بجھ گئی تری تلوار کی ہوس

ردیف ک

  1. مری شاکی ہے خود میری فغاں تک

ردیف ن

  1. شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں
  2. نہ ٹھیری جب کوئی تسکین دل کی شکل یاروں میں
  3. جانے والا اضطراب دل نہیں
  4. صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں

ردیف و

  1. یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو

ردیف ی

  1. کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی
  2. مر کے بھی قامت محبوب کی الفت نہ گئی
  3. جفا کی اس سے شکایت ذرا نہیں آتی