غزل

ردیف د

  1. یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یاد

ردیف م

  1. ہم سے قائم جنون الفت ہے

ردیف ن

  1. خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیں
  2. یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیں

ردیف ی

  1. حسن اگر آشکار ہو جائے
  2. ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی