پیری میں خاک زندگانی کا مزہ
پیری میں خاک زندگانی کا مزہ
دانے کا ہے لطف اور نہ پانی کا مزہ
وہ مے کشی و ذوق کہاں ہے اے شورؔ
تا مرگ نہ بھولیں گے جوانی کا مزہ
پیری میں خاک زندگانی کا مزہ
دانے کا ہے لطف اور نہ پانی کا مزہ
وہ مے کشی و ذوق کہاں ہے اے شورؔ
تا مرگ نہ بھولیں گے جوانی کا مزہ
ماخذ: ویکی ماخذ · جارج پیش شور