غزل

ردیف الف

  1. انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیسا
  2. سوئے دیار خندہ زن وہ یار جانی پھر گیا

ردیف د

  1. دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد

ردیف ر

  1. دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پر

ردیف ن

  1. کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیں
  2. جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیں
  3. اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں

ردیف و

  1. تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کو

ردیف ھ

  1. نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھ

ردیف ی

  1. باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کی
  2. یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے
  3. منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے
  4. محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے